خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 299
خطبات طاہر جلد 14 299 خطبہ جمعہ 28 / اپریل 1995ء جگہ کہ ایسی بات نہ کریں کہ خواہ مخواہ آبیل مجھے مار، لوگوں کو اپنا دشمن بنا ئیں۔پس تقوی کا اس سلسلے میں دوسرا تقاضا یہ ہے کہ اگر غلط آدمی منتخب ہو رہا ہو تو دیانت داری کے ساتھ قطع نظر اس کے کہ کوئی دوست بنتا ہے یا دشمن بنتا ہے ،اس وقت صورت حال نظام جماعت کی معرفت او پر پہنچائی جائے۔اس کا ایک برعکس بھی ہے جو اکثر چلتا ہے۔یہ بات تو نہیں ہوتی جو ہونی چاہئے۔جو نہیں ہونی چاہئے وہ دکھائی دیتی ہے کہ بعض لوگوں کی پسند کا آدمی نہیں آتا تو وہ عہد یدار نہ بھی ہوں ان کا یہ کام ہی نہیں ہے کہ اس قسم کی رپورٹیں کریں مگر وہ ضرور اپنا بغض نکالتے ہیں۔لمبی لمبی چٹھیاں لکھ دیتے ہیں۔بعض دفعہ چودہ چودہ صفحے کے خط آتے ہیں کہ یہ شخص جس کا انتخاب ہوا ہے ہم آپ کو متنبہ کر رہے ہیں بڑا خبیث آدمی ہے ،اس قسم کا آدمی ہے ، اس طرح یہ جھگڑالو، اس طرح اس نے شرارتیں کیں اور حال یہ ہے کہ بعض پندرہ پندرہ سال پرانے واقعات بھی لکھتا ہے وہ۔یعنی واقعہ ایسے پرانے واقعات بھی ادھیڑ ادھیر کر نکالے گئے۔میں ان سے پوچھتا ہوں کہ تمہارا تقویٰ اس وقت کیا کر رہا تھا جب پہلی دفعہ اس کی برائی سامنے آئی تم کیوں سوئے ہوئے تھے۔اگر تم نے اس وقت نظام جماعت کی معرفت اپنا حق ادا نہیں کیا تو آج تمہارا کوئی حق نہیں ہے کہ اپنی زبان کھولو۔اس لئے کہ اب تمہارے ساتھ براہ راست اس کا مفاد کرایا ہے۔تمہیں خطرہ ہے کہ ایسی جماعت میں اگر یہ اوپر آیا تو پھر میرے جو روز مرہ کے معاملات ہیں ان پر منفی اثر پڑ سکتا ہے اس لئے تمہیں پرانی باتیں یاد آ گئی ہیں۔اس لئے یہ بھی یادرکھنے کی ضرورت ہے کہ پرانی باتیں اگر کسی شخص میں ایسی ہوں جن کا نظام جماعت کے سامنے آنا ضروری ہو تو جس وقت وہ ہوں اس وقت آنی چاہئیں۔بعض دفعہ جرمنی ہی کی بات ہے ایک دو سال پہلے کی بات ہے کہ جب اختلاف ہوا ایک عہدیدار سے تو مجھے چٹھیاں آئیں کہ یہ عہدیدار، یہ تو اس قسم کا آدمی ہے اور اس قسم کا آدمی ہے اور ایسے ایسے خوفناک الزام تھے کہ اگر شریعت اسلامیہ نافذ ہوتی تو اس کو اسی (80) کوڑے ضرور پڑتے اور تقویٰ کا یہ حال کہ اب خیال آیا ہے کہ یہ عہدیدار بن رہا ہے اور پرانی ساری داستان کہتا ہے میری آنکھوں کے سامنے گزری ہے اور اس وقت کان کے اوپر جوں تک نہیں رینگی۔جب میں کہتا ہوں اطلاع دو تو میں اس قسم کی ذلیل جاسوسیوں کی تحریک آپ کو نہیں کر رہا۔یہ باتیں تو آپ کرتے ہیں جن کو میں دبانے کی کوشش کرتا ہوں۔یہ تو تکلیف دہ باتیں کئی