خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 295 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 295

خطبات طاہر جلد 14 295 خطبہ جمعہ 28 اپریل 1995ء ہوتے تو تقویٰ کو اختیار کیوں کرتے۔پس محض مجہول کی حیثیت رکھنا یہ تقویٰ کی نشانی نہیں ہے۔تقویٰ کے نتیجے میں ایک روشنی پیدا ہوتی ہے، ایک فراست پیدا ہوتی ہے، باتوں میں ایک گہرائی پیدا ہو جاتی ہے۔پس تقویٰ کی پہچان اس پہلو سے اگر چہ مشکل ہے لیکن روزمرہ کے تجربے میں آنے والے لوگوں کو سمجھنے کے لئے کچھ بھی مشکل نہیں۔ایک ایسا شخص جس کے ساتھ واسطہ پڑتا ہواور پتا ہو کہ جب بولے گا سچ بولے گا اس کو آپ تقوی سے خالی نہیں کہہ سکتے۔ایک ایسا شخص جس کے پاس جب آپ امانت رکھوا دیں تو پتا ہے کہ وہ امانت میں خیانت نہیں کرے گا۔ایک ایسا شخص جس کے متعلق آپ جانتے ہیں کہ اسے اپنی بڑائی کی کوئی بھی خواہش نہیں اور اس میں انکسار پایا جاتا ہے، کسی قسم کا کوئی تکبر نہیں ہے۔ایک ایسا شخص جو نظام جماعت کے سامنے ہمیشہ سرتسلیم خم کرتا ہے اور کسی جنبہ داری میں کسی تفرقہ بازی میں کوئی حصہ نہیں لیتا ، اس کو کوئی دلچسپی نہیں ہے، یہ تقویٰ کی ظاہری علامتیں ہیں اور جہاں تک انسان کا تعلق ہے وہ ظاہری علامتوں ہی سے ایک انسان کا تقویٰ پہچان سکتا ہے حقیقت تقویٰ کا علم سوائے خدا کے کسی کو نہیں اور علِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ (الحشر : 23 ) کا ایک یہ بھی مضمون ہے۔آج میں نے اس آیت کو حضرت مسیح موعود کے ارشادات کی روشنی میں اپنے خطبے کے لئے موضوع بنایا تھا مگر اب چونکہ مضمون دوسرا شروع ہو چکا ہے اس لئے وہ انشاء اللہ آئندہ خطبے میں بات کروں گا۔مگر یہاں یہ یاد رکھیں کہ اس مضمون کا تعلق کسی کے تقویٰ کی پہچان سے بھی ہے۔علم الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ کا مطلب یہ ہے کہ تم بسا اوقات ایک شخص کو نیک سمجھ رہے ہوتے ہو مگر وہ خدا کی نظر میں نیک نہیں ہوتا۔تم بظاہر ایک شخص کو بد سمجھ رہے ہوتے ہومگر وہ خدا کی نظر میں بد نہیں ہوتا۔غیب کا علم بھی وہی رکھتا ہے اور جو تمہیں دکھائی دیتا ہے اس میں تمہارے دیکھنے کا بھی کوئی اعتبار نہیں تو تم نہ غیب کا علم رکھتے ہو نہ ظاہر کا علم رکھتے ہو۔اس آیت کی روشنی میں پھر لوگ کہہ سکتے ہیں کہ پھر ہمارے معیار کا کیا نتیجہ نکلے گا۔جس معیار پر ہم قائم ہیں اس معیار کے پیش نظر جو فیصلے کریں گے ان کی صحت کی کیا ضمانت ہے۔تو ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ جہاں تک عمومیت کا تعلق ہے عمو مامومنوں کے فیصلے اللہ کے فیصلے کے مطابق ہوتے ہیں اور متقیوں کے فیصلے خدا کے فیصلے کے مطابق ہوا کرتے ہیں۔اس لئے ان کا انفرادی فتویٰ ہر شخص کے متعلق تو نہیں چل سکتا کہ جس کو کوئی نیک آدمی کہہ دے یہ ضرور متقی ہے، وہ ضرور متقی نکلے۔اللہ ہی بہتر جانتا ہے مگر عمومی طور پر تقویٰ ایک روشنی بخشتا ہے جس کے متعلق