خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 287 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 287

خطبات طاہر جلد 14 287 خطبہ جمعہ 21 اپریل 1995ء خدا تعالیٰ نے ایسی حکمتیں رکھ دی ہیں کہ ہر چیز جو پیدا کرتی ہے اپنے جیسا ہی پیدا کرتی ہے یعنی ماں ارادہ تو نہیں کرتی مگر ہوتا ایسا ہی ہے۔اب جو اپنے جیسا پیدا کرتی ہے تو اس پر جو پیدا ہوا ہے اس کا کوئی احسان نہیں لیکن جس نے پیدا کیا ہے اس نے احسان کیا ہے مگر اس لئے نہیں کہ وہ بچہ اس کو پہچانے۔بچہ نہ بھی پہچانے تب بھی وہ محسنہ ہی رہتی ہے۔بچہ حسن کا بدلہ بدی سے دے تب بھی وہ محسنہ ہی رہتی ہے۔پس پہچانے جانے کی خاطر ان معنوں میں نہیں اس کو پیدا کرتی کہ وہ اگر بچہ پیدا ہو اور اس پر پھر وہ احسان کرے اور اس کا پہچاننا اس کی ذات میں ایک اعلیٰ قدر پیدا کر دے یا لطف کا احساس بڑھا دے، ہر گز یہ مقصد نہیں ہوتا بلکہ اس کا تعلق چونکہ رحم سے ہے ، رحمان سے ہے اس لئے اس کے اندر خدا کی وہ صفت جلوہ گر ہو جاتی ہے جو ماں کے حوالے سے ہمیں خدا کی صفت کو سمجھنے میں بھی زیادہ سہولت پیدا ہو جاتی ہے۔چنانچہ ایک ماں کے متعلق جو آتا ہے کہ اس کا اپنی بہو سے اختلاف تھا، جھگڑا تھا اور بہوگندی اور ظالم عورت تھی۔اس نے ہر طرح سے اذیتیں پہنچائیں لیکن اپنے بیٹے کی خاطر وہ صبر کرتی رہی یہاں تک کہ بہو نے اپنے خاوند سے کہا کہ اگر تم مجھ سے سچی محبت کرتے ہو تو اپنی ماں کا سرکاٹ کر میرے سامنے طشتری پر لا کے رکھو تب میں سمجھوں گی کہ واقعہ تم مجھ سے محبت کرتے ہو تو اس ظالم نے یہی حرکت کی۔اب یہ تو کہانی ہے مگر اس کہانی سے ہمیں اللہ تعالیٰ کی ذات کا کچھ عرفان نصیب ہو جاتا ہے اور اسی تعلق میں یہ بات ہے جو میں بیان کر رہا ہوں۔کہتے ہیں جب وہ سرکاٹ کے لے جارہا تھا تو اس کو ٹھوکر لگی اور طشتری سے وہ سرزمین پر جا پڑا، بچہ بھی گرا، اس سر سے آواز آئی میرے بچے تجھے چوٹ تو نہیں لگی۔یہ ماں کا جذبہ دکھانے کے لئے کہانی بنائی گئی ہے۔مگر اللہ تعالیٰ جب فرماتا ہے کہ میں ایسا خوش ہوتا ہوں جیسے گم شدہ اونٹنی کسی کو واپس مل گئی ہو۔تو دراصل یہی مضمون ہے۔پس اعرف کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کے بغیر خدا تعالیٰ کی کوئی حیثیت نہیں تھی بلکہ وہ اپنے جیسے وجود پیدا کر کے ان پر احسان کرتا ہے اور احسان کرنا ایک فطری چیز ہے جس طرح ماں کی فطرت میں بچہ پیدا کرنا ہے اور بچے کی تکلیف اس کو ہمیشہ تکلیف پہنچاتی ہے، بچے کی خوشی سے وہ ہمیشہ خوش رہتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے اوپر ان مثالوں کا اگر اطلاق ہوتا ہے تو محض اس حد تک جس حد تک خدا کی شان ہمیں اجازت دیتی ہے کہ ان کا اطلاق کریں اور ان کے اطلاق کے بغیر مضمون کی سمجھ ہی نہیں آسکتی ،