خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 24 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 24

خطبات طاہر جلد 14 24 خطبہ جمعہ 13 جنوری 1995ء اگر بچے ہوں تو وہ ضرور خدا کی طرف لے کے جاتے ہیں اور خدا والوں کا قدم اعلیٰ اخلاق پر ہوتا ہے۔وہاں سے ان کی سربلندی کا سفر شروع ہوتا ہے۔جہاں دنیا کا سفر ختم ہو جاتا ہے وہاں سے وہ دوسرا قدم اٹھاتے ہیں جو آسمان کی بلندیوں کی طرف ان کو لے جاتا ہے۔تو دنیا وی خلق اچھے بھی ہو سکتے ہیں مگر اگر وہ Dead ہوں یعنی ان کے اندر زندگی نہ ہو اور مزید نشو ونما پانے کی صلاحیت نہ رکھتے ہوں تو وہ مردہ چیزیں ہیں ، اخلاق کی نقالی ہے مگر اخلاق نہیں کہلا سکتے اور ایسے اخلاق جو نقالی ہوں ، جن میں گہری روح نہ ہو وہ ہمیشہ آزمائش کے زلزلوں پر آکر منہدم ہو جایا کرتے ہیں، ان کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔اس لئے بھی ضروری ہے کہ اخلاق کی اگر حفاظت کرنی ہے تو خدا سے تعلق جوڑو۔خدا کے تعلق کے بغیر وہ اخلاق جو سرسری ہیں ، دیکھنے میں اچھے بھی دکھائی دیں تو ان میں زندہ رہنے کی صلاحیت نہیں ہوتی اور جب بھی دنیا میں جنگیں ہوئی ہیں اور عظیم ابتلاء آئے ہیں یہ بات بار بار کھل کر ثابت ہوئی ہے کہ وہ لوگ جن کے اخلاق کی بنیاد خدا تعالیٰ کی ہستی پر ایمان پر تھی ان کے اخلاق کو کبھی ٹھو کر نہیں لگی۔سخت سے سخت آزمائشوں میں مبتلا کئے گئے مگر ان کے اخلاق اپنے حال پر قائم رہے اور زلزلے ان کو منہدم نہ کر سکے، گرانہیں سکے لیکن وہ قومیں جو بہت ہی اعلیٰ اخلاق پر فائز دکھائی دیتی رہی ہیں جب بھی ابتلاء آئے ہیں اور زلازل آئے ہیں تو ان کے اخلاق اس طرح منہدم ہو گئے کہ ان کی کوئی حیثیت ہی نہیں تھی۔جنگ عظیم کا حال آپ پر روشن ہے آج بھی کبھی کبھی ان مظالم کی داستانیں دہرائی جاتی ہیں بعض Documentries پیش کی جاتی ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ جنگ عظیم کے دوران مغربی قوموں نے خود دوسری مغربی قوموں پر کیسے کیسے مظالم توڑے ہیں۔ایسے خوفناک نقشے دکھائے جاتے ہیں کہ ان کے تصور سے بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور وہ دراصل دہریت کی پیداوار ہے۔وہ اخلاق جود ہریت کے ارد گر د لمع کے طور پر ہوں ان کی قطعاً کوئی حیثیت نہیں ہوتی بلکہ جب وہ لمع اترتا ہے تو اندر سے ایک خوفناک بھیٹر یا یا اس سے بھی زیادہ ظالم جانور نکلتا ہے باہر اور وہ پنجے باہر نکالتا ہے تو پتا چلتا ہے کہ یہ محض ایک دکھاوا تھا ورنہ در حقیقت اندر کچھ بھی نہیں تھا۔تو آنحضرت ﷺ جن اخلاق پر فائز ہوئے ہیں وہ زندہ اخلاق تھے، یقینی تھے اور اسی وجہ سے آپ کو نبوت پر سرفراز فرمایا گیا اور پہلے انبیاء بھی اخلاق ہی کے رستے سے نبوت پر فائز ہوئے مگر