خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 23 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 23

خطبات طاہر جلد 14 23 خطبہ جمعہ 13 جنوری 1995ء معلوم نہیں۔جس حد تک بھی معلوم ہیں وہ یہی پتا دیتے ہیں کہ تمام انبیاء کی بنیا د اخلاق پر تھی اور اخلاق پہلے تھے مذہب بعد میں آیا ہے اور کبھی یہ نہیں دیکھا گیا کہ ایک بدخلق انسان کو مذہب نے با اخلاق بنایا ہو اور اس طرح وہ اس سلسلے میں نبی بن گیا ہو۔کسی بدخلق کو خدا نے نبوت کے لئے نہیں چنا۔تو جو دنیا کے اخلاق دکھائی دیتے ہیں ان میں اگر سچائی ہو تو وہ مذہب کی طرف لے جانے والے ہیں مذہب کے علاوہ اپنی ذات میں کوئی مستقل حیثیت نہیں رکھتے بلکہ وہی خلق جب ترقی کرتے ہیں تو وہ مذہب پر منتج ہوتے ہیں اور یہ وہ فلسفہ ہے جو در حقیقت خدا تعالیٰ کی ہستی کے ثبوت کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔لینن جیسا شخص جود ہر یہ تھا خدا کی ہستی کا قائل نہیں تھا اس نکتے کو بہر حال وہ سمجھ چکا تھا کہ اگر ہم نے اخلاق کو قبول کر لیا تو لازم ہم خدا کی طرف مائل ہو جائیں گے۔چنانچہ بہت لمبا عرصہ اس کا اختلاف رہا اپنے اور کیمونسٹ راہنماؤں سے اور اس پر اس نے کتاب بھی لکھی اور لمبے مضامین بھی درج کیے۔اس کا مبحث یہ تھا، لڑائی اس بات پر تھی کہ کیمونسٹ لیڈرشپ میں بعض لوگ یہ کہتے تھے کہ اخلاق کے بغیر ہمارا گزارا نہیں ہے اس لئے ہمارا نظام نا کام ہو جائے گا اگر ہم نے اخلاق کو ترک کر دیا ، تو ہمیں ضرور اخلاق کی طرف واپس لوٹنا ہے اور لینن کہتا تھا کہ اگر تم نے یہ بات تسلیم کر لی تو تم خدا کی طرف لوٹو گے۔اس خدا کی طرف لوٹو گے جس کو تم بھی خیر باد کہہ آئے ہو اور میں بھی کہہ آیا ہوں جس خدا سے مارکس نے ہمارا تعلق ہمیشہ کے لئے منقطع کر دیا تھا تو یہ کیوں نہیں کہتے کہ تم مذہبی ہو گئے ہو۔یہ کیوں نہیں کہتے کہ ہم لامذہبیت سے مذہب کی طرف لوٹ رہے ہیں۔نہ وہ یہ کہنا چاہتا تھا نہ اس میں یہ جرات تھی یعنی اس کا مد مقابل Bogdanov بہت ہی مشہور روسی لیڈر تھا، اس کا ساتھی بھی تھا۔وہ یہ تو نہیں کہتا تھا مگر اس کے بغیر اپنی بات پوری کرنا چاہتا تھا اس کی بات میں گہری سچائی تھی کہ کوئی بھی دنیا کا نظام اخلاق کے بغیر چل نہیں سکتا خواہ وہ مذہبی نظام ہو یا غیر مذہبی نظام ہو اور لینن کی بات بھی بچی تھی کہ یہ ناممکن ہے کہ اخلاق حقیقی ہوں اور وہ خدا کی طرف نہ لے جائیں کیونکہ اخلاق کا منبع خدا ہے اور اخلاق خدا سے پھوٹتے ہیں اور خدا ہی کی طرف لے جاتے ہیں۔تفصیلی بحث کا تو اس وقت موقع نہیں ہے کہ اس میں پڑ کے وجہ بتاؤں کہ کیوں لینن سچا تھا، کیوں اخلاق لاز مأخدا کی طرف لے جاتے ہیں۔مگر آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد کی روشنی میں جو میں نے آپ کے سامنے رکھا ہے۔یہ حقیقت تو خوب کھل جاتی ہے کہ اخلاق