خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 240 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 240

خطبات طاہر جلد 14 240 خطبہ جمعہ 7 اپریل 1995ء استعمال کئے ہیں اور وہ مضمون کو سمجھانے کے لئے زیادہ قریب ہیں۔ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ رحم رحمن سے جوڑا ہوا ہے۔( یعنی رحم اور رحمان کا مادہ ایک ہی ہے ) یہ ترجمہ کرنے والے نے اپنی طرف سے لکھ دیا ہے حالانکہ اس کا کوئی ذکر وہاں حدیث میں نہیں ملتا۔اس لئے جہاں جہاں بھی ہماری کتابوں میں مادہ ایک ہے دونوں سے رحمن نکلا ہے یہ الفاظ موجود رہے ہیں پائے جاتے ہیں اور اس کی وجہ سے کئی دفعہ لوگوں کو غلطی بھی لگ جاتی ہے ان کو درستی کرنی چاہئے اسی غلطی کی وجہ سے جو ترجمے میں پائی جاتی تھی کئی دفعہ میں نے بھی پرانے کسی مضمون کے سلسلے میں یہ ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ رحمن اور رحم کا مادہ ایک ہی ہے، دونوں ایک ہی مادے سے نکلے ہیں مگر جب میں نے تحقیق کی تو قطعی طور پر ثابت ہوا کہ ایسا کوئی ذکر احادیث میں موجود نہیں ہے، ترجمہ کرنے والوں کی غلطی ہے۔یہاں جو الفاظ ہیں وہ یہ ہیں ان الـرحـم شـجـنـتـه من الرحمن ، رحمن کی شاخ ہے اصل رحمن ہے اور رحمن کی ایک شاخ ہے۔فقال الله من وصلك وصلته ومن قطعك قطعته یعنی رحم رحمن کی شاخ ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ رحم اپنی تمام صفات اللہ تعالیٰ کی صفت رحمانیت سے پاتا ہے مگر تمام تر نہیں۔شاخ ، اصل وجود کا متقابل یا متبادل نہیں ہوا کرتی۔شاخ کا دراصل یہ مفہوم ہے۔یہاں کسی خاص درخت کی بات تو نہیں ہو رہی۔ایک تمثیلی کلام ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اصل وجود ہے، اللہ کی ہر صفت اصل ہے اور باقی تمام صفات جزوی ہیں جو تمام صفات میں ام الصفات کے طور پر پیش کی جاسکتی ہے ان تمام صفات میں اتنی اہم صفت کے ساتھ کیا آپ اپنا تعلق کاٹنے کے سامان اپنے ہاتھوں سے تو نہیں کر رہے۔اگر کر رہے ہیں اور چوبیس گھنٹے رحمن ، رحمن کی رٹ لگائے رکھتے ہیں تو کسی بے وقوف صوفی کے نزدیک تو ہوسکتا ہے آپ ذکر الہی میں مشغول ہوں مگر در حقیقت اگر اسماء کے مضمون کو سمجھیں تو ذکر الہی سے اس رٹ کا کوئی دور کا بھی تعلق نہیں جس کا اثر آپ کی ذات میں ظاہر نہیں ہوتا اور آپ اس صفت کے قریب تر نہیں ہوتے چلے جاتے اور یہ پہلو ہے جس کے لحاظ سے جماعت میں ابھی تک بہت سی کمزوریاں ملتی ہیں اور میں خصوصیت سے ان کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔رحم کے رشتے ایک موقع تک تو ایک رستے پر چلتے ہیں پھر آگے جا کر ان کا جوڑ دوسرے