خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 238
خطبات طاہر جلد 14۔238 خطبہ جمعہ 7 اپریل 1995ء علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک ایسا طبعی منطقی نتیجہ نکالا ہے جس کا متبادل ممکن ہی نہیں کیونکہ نام کسی چیز کا ہے کسی وجود کا ہے اور وجود اپنی صفات سے پہچانا جاتا ہے۔اگر وجود کی صفات نہ ہوں تو نام بے معنی ہے۔نام ایک خلائی نام ہے اس کی کچھ بھی حقیقت نہیں۔اگر وہ وجود کوئی صفات رکھتا ہے اور وجود دائمی ہے تو وہ صفات بھی دائمی ہونا ضروری ہیں اور ان کو حرفوں سے لفظوں سے مشتق قرار نہیں دیا جاسکتا۔ہاں وہ صفات جو انسانی زندگی میں ہمیں انسانوں پر یا دوسری چیزوں پر اطلاق پاتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں ان کو خدا کے ناموں سے مشتق سمجھنا پڑے گا یعنی دائمی حقیقت صفات باری تعالیٰ کی ہے اس سے ملتے جلتے نام جب روز مرہ زندگی میں استعمال ہوتے ہیں تو وہ تخلیق ہیں، نام اور تخلیق ہیں خدا کے اسماء کے پر تو کے طور پر۔پس يُلْحِدُونَ کا مطلب یہ بنے گا کہ وہ لوگ جو اللہ کے اسماء کا بذلتہ اپنی ذات میں متصف ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم رحمان ہیں، ہم رحیم ہیں۔وہ الحاد کرنے والے ہیں، وہ مشرک ہیں اور خدا کا شریک ٹھہرانے کا ادعا کرتے ہیں یا کوشش کرتے ہیں۔اس ضمن میں جب ہم اس مضمون کو اس ابتدائی شکل میں ذہن میں جمالیں تو پھر سورہ اخلاص ایک اور معنوں میں ہمارے سامنے ابھرتی ہے۔قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدُنَ اللهُ الصَّمَدُنَ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ (الاخلاص 5-1) اللہ اگر اسماء کے مجموعے کا نام ہے جو اللہ کی طرف بطور صفات منسوب ہوتے ہیں تو اللہ پیدا نہیں ہوا تو کوئی ایک اسم یا ایک صفت بھی پیدا نہیں ہو سکتی۔اگر اللہ نے پیدا نہیں کیا تو وہ اپنی اس صفت کو جو اس کی ذات کا خاصہ ہے اس کو اس طرح پیدا نہیں کرتا جس طرح باپ بچے کو پیدا کرتا ہے یا ماں بچے کو پیدا کرتی ہے۔اس کے پر تو تخلیق کرتا ہے اور اس مضمون کو آخری آیت خوب کھول دیتی ہے۔وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا اَحَدٌ یعنی اس کا کوئی بھی کفو کسی لحاظ سے موجود نہیں اور کفو ہونے کے لئے صفات کا اشتراک ضروری ہے۔پس اللہ تعالیٰ کی صفات کا حامل دوسرا وجود پیدا نہ کرنا قطعی طور پر یہ ثابت کرتا ہے کہ تمام صفات الہی خدا تعالیٰ کی ذات کی طرح نہ صرف یہ کہ قدیم سے ہیں بلکہ ان صفات کا بعینہ ان پر مشتمل کوئی وجود اللہ تعالیٰ ایسا پیدا نہیں کرتا جیسے ماں کے پیٹ سے بچہ پیدا ہوتا ہے اور وہ ساری صفات کو اپنے اندر لئے ہوئے پیدا ہوتا ہے۔باپ کا نطفہ ماں کے پیٹ میں بچہ بنانے میں ممد ہوتا ہے اور