خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 197
خطبات طاہر جلد 14 197 خطبہ جمعہ 24 / مارچ 1995ء رحیمیت کی صفات سے متصف ہے یعنی بلا استحقاق احسان والی رحمت اور ایمانی حالت سے وابستہ رحمت ہر دور حمتوں سے وہ ذات متصف ہے۔(اعجاز اسیح ، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ: 115) اب اللہ کے حوالے سے رحمانیت اور رحم کے وہ معنے وجود میں آئے جو مادے پر غور کرنے سے نہیں آسکتے تو لفظ رحمان اطلاق پایا مگر خدا کے تعلق میں اس میں حیرت انگیز وسعت پیدا ہو گئی۔اب سوال یہ ہے کہ جو آخری حصہ ہے آپ کے کلام کا اس کے معانی کیا ہیں۔مشکل الفاظ ہیں عام طور پر جو اردو دان ہیں جن کا عربی کا علم کمزور ہو یا ویسے بھی ان کے لئے اس کلام کو سمجھنا مشکل ہے لیکن اگر کلام کو ویسے بھی سمجھ جائیں لفظ لفظا ہر لفظ کا معنی سمجھتے ہوں تب بھی جب تک اس کی وضاحت نہ کی جائے ہر ایک پر یہ مضمون روشن نہیں ہوسکتا۔آپ فرماتے ہیں اللہ اس ذات کا نام ہے جو رحمانیت اور رحیمیت کی صفات سے متصف ہے یعنی بلا استحقاق احسان والی رحمت اور ایمانی حالت سے وابستہ رحمت ہر دور حمتوں سے وہ ذات متصف ہے۔کیا مطلب ہوا اس کا۔بلا استحقاق احسان کرنے والی رحمت اور ایمانی رحمت ہر دو صفات سے یہ ذات متصف ہے۔دراصل رحمان کا لفظ بعض پہلوؤں سے ہر دوسری صفت سے پہلے ہے یعنی زمانے کے لحاظ سے نہیں بلکہ اپنے مقام کے لحاظ سے اور بعض پہلوؤں سے یہ رب کے بعد آتا ہے۔یہ وہ باریک مضمون ہے جس کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک فقرے میں بیان فرما دیا ہے۔اللہ رحمان ہے اور رحمان وہ ہے جس نے پیدا کیا ہے۔جس نے نہ صرف یہ کہ انسان کو پیدا کیا بلکہ کلام الہی کا خالق یا خالق نہ کہیں تو کلام الہی کا منبع بھی رحمان ہی ہے۔الرَّحْمَنُ نُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ ( الرحمن : 2 تا 5) رحمان کی طرف یہاں اللہ نہیں فرمایا گیا رحمان کہہ کر یہ دو معانی بیان فرمائے کہ وہ تخلیق کا اول ہے۔ہر تخلیق اسی سے نکلی ہے اور انسان کو پیش کیا ہے تخلیق کے نمونے کے طور پر کیونکہ تخلیق کا آخری نقطہ انسان ہے اگر انسان کو رحمان نے پیدا کیا ہے تو چونکہ ہر چیز انسان کو پیدا کرنے کی خاطر بنائی گئی اس لئے رحمانیت میں ہر وہ چیز داخل ہوگئی۔پھر فرمایا قرآن کریم ، یہ بھی رحمان نے بنایا ہے۔خَلَقَ الْإِنْسَانَ کے ساتھ قرآن کے لئے خلق کا لفظ نہیں فرمایا۔لیکن یہ فرمایا عَلَّمَ الْقُرْآنَ خدا تعالیٰ نے نہیں اَلرَّحْمٰن نے عَلَّمَ الْقُرْآن قرآن سکھایا ہے۔اب یہ دو معانی ہیں جن کی طرف حضرت مسیح موعود اشارہ