خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 186 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 186

خطبات طاہر جلد 14 186 خطبہ جمعہ 17 / مارچ 1995ء کی صفات آپ نے حاصل فرمائی تھیں تو اگر بچوں کی تربیت پر مامور ہیں تو آنحضرت ﷺ اس دور میں اپنی امت کی اور بالغ لوگوں کی جو بالغ ہو کر مرے ہیں ان کی کسی نہ کسی رنگ میں تربیت فرمار ہے ہوں گے اور یہ بھی جنت کے مشاغل میں سے کچھ مشاغل ہیں۔تو مراد یہ ہے کہ مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ کا ایک جلوہ ہے کلیۂ نہتہ کر دینے کا ہر چیز جس کو انگریزی میں کہتے ہیں As you were اپنے اصل کی طرف لوٹ جائے گی۔Square One جہاں سے کام شروع ہوا تھا، اللہ سے تعارف شروع ہوا، مالک پر وہ تعارف دوبارہ اللہ کی ذات میں جا کر ختم ہوا۔ویسا ہی نظارہ ہوگا تمام کائنات اپنی صفات سے کلیۂ عاری ہو جائے گی۔یہ وہ موت ہے جو کامل موت ہے۔اس موت سے پھر دوبارہ نشو و نما ہوگی اور صور پھونکنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ بگل بجایا تو مردے جی اٹھیں گے۔خدا تعالیٰ کی صفات حسنہ کا پھوٹنے سے تعلق ہے فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيْهِ مِن رُّوحِي فَقَعُوا لَهُ سَجِدِينَ (الحجر: 30) جب میں اپنی روح پھونکوں گا آدم میں تب تم نے اس کو سجدہ کرنا ہے۔تو وہ بگل کا بجانا اور یہ بنگل میں پھونکنا دراصل وہ صفات باری تعالیٰ ہے جو اس دنیا سے تعلق رکھتی ہیں۔پس اس پہلو سے فرشتوں کے دو پہلو بنتے ہیں ایک وہ جو اس دنیا میں ظاہر ہوتے ہیں اور ایک وہ جو آخرت کے لئے مقرر ہیں۔اللہ تعالیٰ چار صفات اپنی بیان فرماتا ہے۔رب ، رحمان ، رحیم، مالک اللہ تو ذاتی اسم ہے اور چار صفات سے تعلق رکھنے والے فرشتے اس دنیا میں تمام عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں لیکن قیامت کے بعد جو عرش ہے اس کے متعلق فرمایا وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبَّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَبِذٍ ثَمُنِيَةٌ (الحاقہ : 18)۔اس دن عرش کو آٹھ نے اٹھایا ہوا ہوگا۔تو جس طرح ہم سے ایک روح نکلے گی جو اعلیٰ درجے کی روح ہوگی جو اس دنیا سے تعلق رکھنے کے لئے موزوں ہوگی۔اسی طرح فرشتوں کا ایک اعلیٰ تر جلوہ رونما ہوگا۔گویا چار کی بجائے آٹھ ہو جائیں گے اور یہ جود گنا جلوہ یا دوسری نوعیت کا جلوہ ہے یہ صوراسرافیل میں ظاہر فرمایا گیا ہے۔خدا تعالیٰ کی کچھ صفات ہیں جو ہم میں پھونکی گئیں جن سے ہم نے اس دنیا میں زندگی پائی ، اس دنیا سے ہم نے نشو و نما حاصل کی ، روحانی ترقیات کیں۔وہ سب صفات واپس لوٹیں گی اور پھر بڑھا کر دی جائیں گی اور ہر ایک کو اس کا حصہ رسدی اس کے عمل کے، اس کے استحقاق کے مطابق