خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 183
خطبات طاہر جلد 14 183 خطبہ جمعہ 17 / مارچ 1995ء شاید ہی کرے کیونکہ اس کے تقاضے بہت ہیں۔ہر دعوے کے ساتھ ایک فیض کا پھوٹنا لا زم ہے۔وہ سمجھتے ہیں مالک کے ساتھ کوئی فیض کا پھوٹنا یعنی ہماری طرف سے فیض جاری ہونے کا مضمون کوئی تعلق نہیں رکھتا کیونکہ مالک کا یہ مضمون سمجھ آجاتا ہے کہ جو چاہے کرے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ٹھیک ہے مالک ہے ہم جو چاہیں کریں۔تو جو چاہیں کرے تو وہ چاہتے ہیں کہ بن جائیں تو وہ بن جاتے ہیں اور جو چاہیں کریں کی خواہش ایسی ہے کہ نہ دنیا کا قانون پھر دیکھتے ہیں نہ خدا کا قانون دیکھتے ہیں دنیا میں مالک بنے بیٹھے ہیں اور جتنے فساد ہیں دنیا میں وہ بالآخر ملکیت سے تعلق رکھتے ہیں وہ جھوٹی ملکیتیں یا ان کا تصور یا ان کی خواہشات جو انسانی فطرت میں ہمیں جلوہ گر دکھائی دیتی ہیں جب بھی وہ عمل دکھاتی ہیں تو دنیا میں فساد پھوٹتا ہے اور اس وقت رحمانیت ، ربوبیت اور رحیمیت سے ہمیشہ ان کا تعلق کرتا ہے۔تو رحمانیت اور رحیمیت اور ربوبیت سے تو انسان خود ہی تعلق توڑے بیٹھا ہے اور روزمرہ آئے دن ہمیں دکھائی دیتا ہے بڑی بڑی قومیں ، امیر قومیں جب ان کو ربوبیت کے مواقع ملتے ہیں غریب قوموں کی ربوبیت نہیں کرتیں۔کبھی کرتی ہیں کبھی نہیں کرتیں مگر شیوہ نہیں ہے لیکن ملکیت کا ایسا شیوہ ہے کہ کوئی چھوٹا سا جزیرہ بھی ہاتھ آئے تو مجال ہے جو اسے ہاتھ سے جانے دیں۔اور اس معاملے میں اپنے ہم عصروں اور اپنے رقیبوں اور اپنے ساتھیوں اور اپنے ہم پلہ لوگوں سے بھی لڑائیاں مول لیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ کہ کہ فرمایا ہے کہ اس دنیا میں تمہیں یہ دھو کے لگے ہوئے ہیں۔کہتے ہو کہ رب تو وہ ہے مان جائیں گے ، رحمان بھی مانیں گے، رحیم بھی مگر مالک ہم ہیں اور ملکیت میں ہمیں پورا اختیار ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ تم غور کر کے دیکھو تو دراصل جب بھی نتائج کا وقت آتا ہے خدا ہی مالک ہوتا ہے اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور آخرت کے حوالے سے اسی زمانے کے حوالے سے جب مالک فرمایا گیا ہے تو اس کا تعلق ان تمام صفات حسنہ سے بھی ہے جو پہلے بیان ہو چکی ہیں۔وہ وقت ہوگا جب رحمانیت کی صفت بھی کامل طور پر خدا کی طرف لوٹ جائے گی۔وہ وقت ہوگا جب رحیمیت کی صفت بھی کامل طور پر خدا کی طرف لوٹ جائے گی۔ہر دوسرا تمام صفات سے عاری ہو جاتے۔وہ جو بعض دائروں میں مالک بنے بیٹھے ہیں وہ کسی دائرے میں بھی مالک نہیں رہیں گے اور یہ مضمون ہے آخری موت کا مضمون جو حقیقی معنے رکھتا ہے۔