خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 182
خطبات طاہر جلد 14 182 خطبہ جمعہ 17 / مارچ 1995ء مظاہر میں يَوْمِ الدِّینِ دکھائی دیتا ہے۔ہر چیز ساتھ ساتھ جز ابھی پارہی ہے اور سَرِيعُ الْحِسَابِ ( آل عمران : 20) کا یہ مطلب ہے۔بعض دفعہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے سَرِيعُ الْحِسَابِ اور قیامت کے دن پکڑے جاؤ گے تو سَرِيعُ الْحِسَابِ کیسے ہوا۔سَرِيعُ الْحِسَابِ یہ ہے کہ ساتھ ساتھ وہ جزا کا نظام جاری کرتا چلا جاتا ہے اور وہ جزا ہمیں دکھائی دے یانہ دے تمہاری تقدیر میں لکھی جارہی ہے اور فیصلے ہور ہے ہیں تمہاری روح کی ایک منحوس شکل بھی بن رہی ہے جو جہنم کے لائق ہے ایک حسین اور دلکش شکل بھی بن رہی ہے جو جنت کے لائق ہے اس کی تیاریاں ہیں۔ایک انسان کائنات میں جو قدرت کے مظاہر کو دیکھے ، اس کے عمل کو دیکھے تو سارا یومِ الدِّینِ ہی ہے اس کے سوا ہے ہی کچھ نہیں۔اس آیت کے تعلق میں جب ہم دوبارہ چلتے ہیں تو اللہ دراصل تمام صفات حسنہ یا تمام اسماء کا منبع بھی ہے اور مرجع بھی ہے۔اللہ کے لفظ سے صفات پھوٹتی ہیں اور اللہ ہی کی طرف واپس لوٹتی ہیں۔پس اللہ کے تعلق میں فرمایا وہ رب العلمین ہے اور ہم نے دیکھا کہ وہ رَبِّ الْعَلَمِینَ تو ہے مگر کچھ لوگ بھی رب بنتے ہیں اور ربوبیت میں کچھ نہ کچھ حصہ پاتے ہیں۔رحمن ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ مائیں بھی رحمن ہیں اور دوست بھی اور اقارب بھی اور محبت میں مبتلا لوگ بھی رحمان ہو جاتے ہیں۔وہ اچھا بدلا دینے والا اور بار بار بدلہ دینے والا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ بعض مزدوروں سے بھی حسن سلوک کرتے ہیں، بہت احسان کا سلوک کرتے ہیں ان کے حقوق سے بڑھ کر ان کو بدلہ دیتے ہیں تو رحیمیت میں بھی ایک قسم کا حصہ پاگئے۔مگر ان سب باتوں کے باوجودان پر زور نہیں ڈالا۔مالک پر جوز ور ڈالا ہے اس کی دو وجوہات ہیں۔ان چیزوں میں وہ حصہ تو پاتے ہیں مگر تھوڑے خوش نصیب ہیں جو کچھ حصہ پاتے ہیں اور وہ بھی عارضی اور معمولی سا۔اس کے باوجود مالک سب بنے بیٹھے ہیں اور ملکیت میں کسی غیر کو برداشت نہیں کرتے اور تمنا بھی یہ ہے کہ ہم ہر چیز کے مالک بن جائیں۔تو مالک کی صفت ان کی ذات میں اتنا جوش دکھاتی ہے کہ ہر دوسری صفت پر غالب ہے اور جو کچھ ان کا ہے بڑے تکبر اور غرور سے کہتے ہیں یہ ہمارا ہے، خواہ بچہ ہو، خواہ تعلق والی کوئی قو تیں ہوں، ان کے لیڈر کہتے ہیں۔یہ ہماری قوم ہے، یہ ملک ہمارا ہے۔یہ سب ملکیت کے دعوے ہیں جن پر ساری دنیا میں جنگیں اور لڑائیاں اور ایک دوسرے سے مقابلے جاری ہیں لیکن رحمن کا دعوی کوئی انسان