خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 179
خطبات طاہر جلد 14 179 خطبہ جمعہ 17 / مارچ 1995ء چنانچہ ایک خاتون کا خط آیا ہے جس میں اس نے کہا کہ آپ جو بات بیان کر رہے ہیں کیا یہ جائز ہوگا میرے لئے کہ اس کے طبعی نتیجے کے طور پر یہ بھی نتیجہ نکالوں۔بہت باریک نتیجہ تھا اور بعینہ وہی نتیجہ آخر میں نے آپ کے سامنے پیش کرنا تھا لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کو اللہ تعالیٰ نے ایسی جلا عطا کی ہے وہ سمجھ گئیں اور وہ نتیجہ نکالا۔کچھ اس میں کمزوری تھی وہ بہر حال درست کر دی جائے گی مگر یہ پہنچ بھی بڑی چیز ہے۔ایک ہمارے فلسطین کے مبلغ ہیں انہوں نے ایسی چیز کی طرف توجہ دلائی جو میں نے بیان کرنی ہی تھی اور جب میں وہ پیش کر رہا تھا تو اسی وقت مجھے احساس تھا کہ یہ سوال پیدا ہوگا اور ہونا چاہئے اور اس کا حل پیش کرنا چاہئے۔چنانچہ انہوں نے بالکل صحیح لکھا ہے کہ یہ سنتے ہوئے بہت سے مسائل حل ہوئے لیکن ایک سوال اٹھ کھڑا ہوا ہے اس کا بھی جواب دیں تو میں وہیں سے آج بات شروع کرتا ہوں۔انہوں نے لکھا ہے کہ آپ نے جو مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ بھی فرمایا اور ساتھ یہ بھی کہا کہ صفات باری تعالیٰ میں زمانہ نہیں پایا جاتا تو مالک کی صفت تو زمانے کے ساتھ بندھی ہوئی ہے۔یعنی قیامت کے دن وہ مالک ہو گا گویا اب مالک نہیں ہے۔تو اس سوال میں کچھ سچائی اس حد تک تو پائی جاتی ہے کہ زمانے کے ساتھ اس صفت کو باندھا گیا ہے۔پہلی صفات کو نہیں باندھا گیا۔اللہ تو اسم ذات ہے۔اللہ، پھر رب ، پھر رحمن اور رحیم۔لیکن کسی کے ساتھ کوئی زمانے کا تعلق قائم نہیں فرمایا۔جب مالک کہا تو ملِكِ يَوْمِ الدِّینِ کہ دیا اور يَوْمِ الدِّینِ کی تعریف کیا ہے۔دیکھیں اس میں کس حد تک زمانہ پایا جاتا ہے اور وہ پہلے معانی سے معارض ہے جو میں نے تعریف کی تھی کہ زمانہ دراصل اسی حد تک خدا کی ذات میں قابل اعتراض ہے جس حد تک اس کی ذات میں تبدیلی پیدا کرنے کا تقاضا کرے اور یہی حقیقی تعریف ہے زمانے کی جو خالق کو مخلوق سے الگ کرتی ہے۔جس ذات میں تبدیلی ہورہی ہے اس کا آغاز بھی ہے اس کا انجام بھی ہے ناممکن ہے کہ اس کا کوئی کنارہ نہ ہو۔جس ذات میں تبدیلی نہیں ہو رہی وہ ذات ہمیشہ کے لئے قائم ہے اس کا کوئی کنارہ پکڑا جاہی نہیں سکتا۔عقل کے منافی بات ہے لیکن اس کے سوا زمانے کے جتنے مطالب ہیں اور اچھے ہیں ان کا خدا سے تعلق ہے۔ایک تعلق یہ ہے کہ مخلوق کے زمانے کے ساتھ ساتھ اللہ اپنی جلوہ گری