خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 178
خطبات طاہر جلد 14 178 خطبہ جمعہ 17 / مارچ 1995ء وہ اور چیز ہے اور فلسفیوں کا حاصل کردہ خدا ایک اور چیز ہے۔زیادہ سے زیادہ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ جو لوگ خدا تک پہنچے کسی حد تک بھی گرتے پڑتے لیکن ایک کوشش تھی۔ویسی ہی بات ہے جیسے حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا وہ خوش قسمت ہے جو گر پڑ کے اس مجلس میں جا پہنچے۔کبھی پاؤں پہ سر رکھا کبھی دامن سے جالیئے پہنچے تو ہیں مگر یہ توفیق نہیں ملی کہ کبھی پاؤں پہ سر رکھا کبھی دامن سے جالیٹے یہ اہل اللہ ہی کو تو فیق ملتی ہے۔ان کو ملتی ہے جو قرآن سے خدا کا تصور حاصل کرتے ہیں اور قرآن کے ساتھ اس تصور میں آگے فلسفے اور منطق کی باریکیاں آئیں نہ آئیں مقصد حاصل ہو گیا۔اب جب میں خدا کا تعارف کرواؤں گا جو اللہ نے خود قرآن میں فرمایا ہے، جس کا ذکر احادیث میں ملتا ہے، جس کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے خدا داد گہرے عرفان سے لے کر ہمارے لئے نسبتاً آسان زبان میں فرمایا۔نسبتاً آسان زبان اس لئے کہ وہ زبان بھی بہتوں کے لئے مشکل ہے لیکن براہ راست اگر سمجھیں گے تو بہت مشکل معاملات تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبان میں وہ نسبتا آسان ہو گئے ، اتنے آسان ہو گئے کہ غور کریں اور بار بار مطالعہ کریں تو وہ سمجھ آسکتے ہیں۔اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تحریرات کو بار بار پڑھنے کی تلقین فرمائی ہے۔ایک تو یہ تھا میرا تاثر اور اس کی میں نے وجہ بتائی ہے کہ وہ مجبوری تھی اس کے بغیر چارہ نہیں تھا اور ایک فائدہ تو بہر حال حاصل ہوا ہے۔میں نے یہاں جب پتا کروایا کہ لوگوں سے پوچھو تو سہی کہ کیا حال ہوا تو عورتوں کی طرف سے تو یہی رپورٹ ملی کہ انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے یہ کہا کہ جی سب اوپر سے گزرا ہے اور مردوں کی طرف سے مختلف آراء تھیں۔ایک نے کہا کہ ہم خوب سمجھ گئے تو بعض نے کہا کہ کچھ سمجھ آئی بڑا زور لگا نا پڑا۔بعض نے کہا کہ بس تبر کا بیٹھے رہے ہیں بس اس سے زیادہ کچھ حاصل نہیں ہوا۔مگر باہر سے جو خطوط آئے ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ دور بیٹھے کوئی افریقہ کے ملک میں، کوئی جاپان میں کوئی کسی اور جگہ ان مضامین کو بڑے غور سے سن کر سمجھ بھی چکا ہے بہت حد تک اور ان کے تبصروں سے پتا چلتا ہے کہ مسلسل وہ مضمون میں ساتھ دیتے رہے اور اس مضمون سے اور بھی باتیں پھوٹیں۔