خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 165 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 165

خطبات طاہر جلد 14 165 خطبہ جمعہ 10 / مارچ 1995ء ہوائی جہاز کتنے Complicated پیدا ہو چکے ہیں مگر اگر بعد میں کسی زمانے میں جبکہ انسان کی سوچ اور بھی ترقی کر گئی ہو، ہوائی جہاز ایسا دریافت ہو جو زمین میں دبا ہوا ملے اور میں یہ کہہ رہا ہوں سوچ ترقی کر گئی ، میرے ذہن میں جو Scenario ہے کہ دنیا مثلاً ایک دفعہ مٹ جاتی ہے۔پھر تخلیق ہوتی ہے۔کوئی سوچنے والا باشعور جاندار ایسا ہے جو بہت ترقی کر جاتا ہے مگر اس کے Dimenstion اور ہیں اس لئے اس کی ترقی کے رستے الگ الگ ہیں، ممکن ہے، قرآن سے ثابت ہے،اس لئے میں یہ کہہ رہا ہوں کہ ممکن ہے بلکہ ضرور ہوگا۔تو اس وقت اگر جہاز دریافت ہو جائے اور ان لوگوں کو اتنی دور کا واقعہ ہو کہ براہ راست انسان کے متعلق کچھ پتا نہ ہو کھدائیوں۔چیزوں سے وہ معلوم کرنے کی کوشش کریں تو ہوائی جہاز کو دیکھ کر کوئی یہ نہیں بتا سکتا کہ انسان کی دو ٹانگیں تھیں، دو ہاتھ تھے، دماغ اس طرح تھا، آنکھیں یہاں لگی ہوئی تھیں اس کا ظاہری حلیہ بھی نہیں پہچان سکتا۔اس کی اندرونی سوچوں تک اس کی رسائی ناممکن ہے۔صرف یہ کہہ سکتا ہے کہ کوئی بہت باشعور ہستی تھی اور کوئی بہت ہی با اقتدار ہستی تھی۔اس کی عقل بھی تیز تھی اور اس کی چیزوں تک رسائی بھی بہت تھی وہ جو سوچتا تھا اسے کر دکھاتا تھا۔تو اس پہلو سے خدا تعالیٰ کی جوشان ہے جلوہ گری ہے وہ مخلوق میں بھی ہے تخلیق میں بھی ہے لیکن اس کے ذریعے آپ اس تک پہنچ نہیں سکتے۔صرف یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ کوئی باشعور با اقتدار ہستی ہے جو بہت ہی گہرے تدبر کی مالک ہے اور اس کی باتیں کوئی بھی باطل نہیں ہیں کیونکہ جو کائنات اس نے پیدا کی ہے وہ باطل سے عاری ہے۔تو باشعور، بالا رادہ، بہت ہی گہرے فکر والی ہستی جو پیدا کر رہی ہے اس کی اپنی ذات کیا تھی؟ کب تھی؟ ہمیں کچھ پتا نہیں۔سوائے اس کے کہ جو وہ خود ہمیں بتائے۔اس پہلو سے جب ہم آیت الکرسی کے ایک حصے پر غور کرتے ہیں تو ایک نیا مضمون ہمارے سامنے ابھرتا ہے وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ الْإِبِمَا شَاءَ عِلْمِہ کا عام طور پر جو مفہوم سمجھا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ جن چیزوں کا خدا کا علم ہے اور خدا کو ہر چیز کا علم ہے یعنی اس کی مخلوقات اس پر کوئی احاطہ نہیں کر سکتا، اس کے کسی حصے کا بھی۔الا بِمَا شَاء سوائے اس کے کہ اللہ چاہے اور اتنا ہوگا جتنا خدا چاہے گا۔تو اس پہلو سے خدا تعالیٰ کے اپنی ذات کے متعلق جو تعارفات ہیں وہی ہیں جو