خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 138
خطبات طاہر جلد 14 138 خطبہ جمعہ 24 فروری 1995ء پس اس پہلو سے جہاں تک ممکن ہے خوبصورت دیدہ زیب مسجد بنانا اللہ تعالیٰ کی صفت جمال کے منافی تو نہیں۔مگر اس انتظار میں کہ اتنا پیسہ ہو تو پھر ایسی مساجد بنائی جائیں ،مساجد کی بنیادی ضرورت کو نظر انداز کر دیا تو یہ جائز نہیں ہے۔یہ پھر دنیا داری ہے ، یہ عبادت کی محبت نہیں ہے۔پس حسب توفیق وسعتیں دیں۔خوبصورت نہیں بنتی تو سادہ مگر اس وقت ستھری اچھی چیز دکھائی دے اور جتنی توفیق ہے اس کے مطابق یہ کام شروع کریں۔انگلستان میں ایک بہت بڑی مسجد کی ضرورت ہے۔یہاں اب تک جو دوسری بڑی بڑی مساجد بنائی گئی ہیں ان میں بتایا جاتا ہے کہ گلاسگو کی مسجد میں سب سے زیادہ نمازی آسکتے ہیں یعنی دو ہزار کی تعداد میں۔اب میں نہیں کہہ سکتا کہ اس میں زیادہ آسکتے ہیں یار یجنٹ پارک کی مسجد میں۔مگر جو اندازہ ایک دفعہ میں نے لگوایا تھا اس سے یہی لگتا ہے کہ ریجنٹ پارک کی مسجد کے ملحقات تو بڑے ہیں مگر نمازیوں کی جگہ اتنی نہیں ہے۔اس لئے بعید نہیں کہ گلاسکو والوں کا دعویٰ درست ہو کہ انگلستان کی سب سے بڑی مسجد ہے۔جماعت احمدیہ کی تعداد تو دوسروں کے مقابل پر بہت تھوڑی ہے لیکن جماعت احمدیہ کے عبادت گزار بندوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔اس لئے ہمیں دو ہزار کی مسجد کام نہیں دے گی۔مرکزی جو جلسے ہوتے ہیں یا مرکزی تقریبات جن میں عبادت کے لئے وسیع جگہوں کی ضرورت پڑتی ہے ان میں انگلستان کی ضرورت چھ سات ہزار تک بھی جا پہنچتی ہے۔تو میں نہیں سمجھتا کہ سردست آپ کے اندر یہ استطاعت ہے کہ چھ سات ہزار نمازیوں کے لئے مسجد تعمیر کر سکیں۔مگر ایسی مسجد کی بنیاد ڈالنا ضروری ہے جس میں یہ سہولتیں مہیا ہوں کہ آئندہ حسب ضرورت اور حسب توفیق اس کی توسیع ہوتی چلی جائے اور مسجد کے عمومی نقشے پر برا اثر نہ پڑے۔یعنی سادگی تو اپنی جگہ درست ہے مگر بد زیبی تو خدا کو پسند نہیں ہے۔ایسے ملحقات ، ایسے الحاقی اضافے جو بد صورتی پیدا کریں وہ اچھے نہیں ہیں اس لئے اپنی پلاننگ میں ، اپنی منصوبہ بندی میں یہاں کی جماعت کو چاہئے کہ یہ گنجائش رکھیں کہ آئندہ دس پندرہ ہزار تک کے لئے بھی وہ مسجد بڑھائی جا سکتی ہو تو بڑھائی جائے اور پھر بھی ٹھیک لگے۔دونوں طرف سے آگے اور پیچھے متوازن بڑھنے کی جگہ بھی ہونی چاہئے اور نقشہ پہلے سے ہی بننا چاہئے مختلف سٹیچز ، منازل کا نقشہ۔