خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 991
خطبات طاہر جلد 13 991 خطبه جمعه فرمودہ 30 دسمبر 1994ء ہوتو ہمیشہ فائدہ پہنچاتی ہے۔ہر عضو بدن کو یہ احساس ہوگا کہ میرے بدن نے جو کچھ حاصل کیا میرا اس میں کیا حصہ تھا، میں کیوں نہ اپنا حصہ ڈالوں اور یہ سوچ منفی نتیجے بھی پیدا کرسکتی ہے۔جیسا کہ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک دفعہ ایک بادشاہ نے یہ اعلان کیا کہ جو بہت بڑا اور خوبصورت تالاب میں نے بنوایا ہے اس کا افتتاح ایسے ہوگا کہ ہر شخص دودھ کا ایک لوٹا بھر کے یا کوئی ایک برتن بھر کے وہ اس میں ڈالے اور حساب دان بتا رہے ہیں کہ ہمارے ملک میں اتنا دودھ ہے کہ اس دن اگر لوگ ایک ایک برتن جو پیمانہ اس میں بیان کیا وہ خود استعمال کرنے کی بجائے اس تالاب میں ڈال دیں گے تو دنیا میں پہلی مرتبہ ایک ایسے تالاب کا افتتاح ہوگا جو دودھ سے بھرا ہوا ہو اور جنت کی یاد دلاتا ہو، بڑا خوبصورت خیال تھا اور اعلان ہوا اور یہ معلوم ہوا کہ ہر طرف تیاریاں ہورہی ہیں لیکن ہوا یہ کہ ہر شخص نے یہی سمجھا کہ ہم بھی تو قوم کا حصہ ہی ہیں سب قوم جب لوٹے ڈالے گی تو اس کی خوشی میں ہم بھی شامل ہوں گے لیکن کیا ضرور ہے کہ ہم بھی لوٹا لے کر جائیں۔چنانچہ کوئی بھی نہیں گیا اور ہر ایک یہ سمجھتا رہا کہ دوسرے کی خوشیوں میں ہم شامل ہو جائیں گے اور وہ فخر جو ساری قوم کو حاصل ہوگا آخر ہم بھی تو اس کا حصہ ہیں اور اس کا افتتاح ایسے ہوا کہ خالی تالاب تھا نہ پانی کا قطرہ نہ دودھ کا قطرہ۔تو سوچیں ایک ہی طرح کی ہوں مگر ذراسی کروٹ بدلیں تو اچھی سوچیں بری سوچوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں، اچھے نتائج کی بجائے مضحکہ خیز نتائج ہاتھ آتے ہیں تو اس پہلو سے بعض ایسی سوچیں ہیں جن کا ہر فرد کے ساتھ گہرا تعلق ہے اور اجتماعی نیکیوں میں یہ بہت ہی اہم معاملہ ہے۔ہر فرد کو اپنا حصہ ضرور ڈالنا ہے اور اس پہلو سے آپ سوچیں کہ آپ نے اس سال میں اپنا حصہ کیا ڈالا تھا۔کسی پہلو سے آپ کو خوشخبری ملے گی، آپ کہیں گے ہاں احمد للہ پہلے مجھے ملی قربانی کی توفیق ملا کرتی تھیں اب بہل گئی کسی اور پہلو سے بھی آپ کو خوشخبری مل سکتی ہے کہ میں پہلے نمازیں کم پڑھتا تھا اب میں پڑھنے لگ گیا ہوں چنانچہ اسی خوشی میں وقتاً فوقت لوگ مجھے بھی شامل کرتے رہتے ہیں۔ایک صاحب نے لکھا کہ پہلے میں نماز سے غافل تھا آپ کا فلاں خطبہ دہرایا جار ہا تھا وہ سنا اور اس کے بعد میرے دل پر ایسا اثر ہوا کہ اسی وقت نماز شروع کر دی اور اس کے بعد نماز چھوڑنے کا کوئی سوال ہی نہیں رہا۔تو اس خوشی میں مجھے بھی شامل کرتے ہیں مگر ہر فرد کا کام ہے کہ عبادت میں شامل ہو پھر اجتماعی طور پر قوم عبادت کرنے والوں کی ایک جماعت بن جاتی ہے جس قوم کا ہر قطرہ یعنی