خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 980 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 980

خطبات طاہر جلد 13 980 تو اس قسم کے پروگرام جب ہوں گے تو پھر وہ بھی دکھانے ہوں گے۔خطبہ جمعہ فرمودہ 23 /دسمبر 1994ء اب پاکستان کی بات ہوئی ہے تو شہداء کے علاقہ کے گاؤں دکھانے چاہئیں۔ان کا رہن سہن ان کا غریبانہ طریق لوگوں سے ان کے متعلق انٹرویو کہ کیسے لوگ تھے یہ ، کیا کبھی کسی کو دکھ دیا، کیا تکلیف پہنچاتے رہے، ان کے قتل کے متعلق تمہارا کیا نظریہ ہے تو غیروں کے انٹرویو لئے جائیں اور ایک سفر کا معمولی خرچ ہے اس میں بہت اچھی فلم تیار ہوسکتی ہے۔پھر اس کے علاوہ جو تعلیمی کوائف ملکوں کے اور ان کے معیار تعلیم ،اخلاق کھیلیں، زراعت، زراعت کے طریق اور قومی کہانیاں یعنی دیو مالائیں وہاں کچھ ہیں ، وہ کیا کیا ہیں۔ان میں کسی اچھے لکھنے والے نے کوئی کتاب لکھی ہو جو شہرت پکڑ گئی ہو اور وہ کہانیاں سب دنیا میں رائج ہیں۔مثلاً جس طرح عرب دنیا سے علی بابا چالیس چور کی کہانی اتنی مقبول ہوئی کہ دنیا کی ہر زبان میں ہر قوم سے متعارف ہو چکی ہے۔اسی طرح الف لیلہ کی ایک وہ لا زوال کہانی ہے جس نے تمام دنیا کے دلوں میں گھر کر لیا ہے۔تو ایسی کہانیاں جو دیو مالائی ہوں یا جیسی بھی ہوں مگر لکھنے والے نے ایک غیر معمولی ذہانت کا اظہار کیا ہے جس نے تمام دنیا کے ذوق کو اپیل کی ہے اور عالمی طور پر ان کا اعتراف ہو گیا ہے، ایسے ہر ملک میں لکھنے والے بھی ہوتے ہیں۔اب بنگال جائیں گے تو ٹیگور کے ادبی ذکر کے بغیر بنگال کی بات پوری نہیں ہوسکتی۔پھر قربانی کرنے والوں کے لحاظ سے جماعت احمدیہ کے دائرے میں خاندانوں نے جو قربانیاں دی ہیں احمدیت وہاں کب آئی اور ملکوں کے لحاظ سے اگر عیسائیت ہے تو عیسائیت وہاں کب آئی تھی۔اب اہل یورپ اگر اس تاریخ کا کھوج لگا ئیں تو خودان میں سے بھی اکثر کو تعجب ہوگا کہ اکثر صورتوں میں تلوار کے ساتھ آئی ہے اور عیسائیت کے ساتھ جبر کی تاریخ ایسی باندھی گئی ہے کہ غیروں ہی کے معاملے میں نہیں خود اپنے معاملوں میں عیسائیت نے اتنے جبر روا ر کھے ہیں اور اتنے مظالم کئے ہیں کہ ان کو تاریخ کے صفحوں میں دبائے بیٹھے ہیں اور اسلام پر حملے کرتے ہیں تو حملے کی نیت سے نہیں ،حقائق کے طور پر ان لوگوں کو سمجھانے کے لئے کہ ”چھاج بولے تو بولے چھلنی کیا بولے تمہیں کیا حق ہے اسلام پر حملہ کرنے کا جبکہ تمہارا اپنا یہ حال ہے۔مذہبی دیوانوں کا قصور ہوتا ہے، مذہب کا نہیں ہوا کرتا۔ہم عیسائیت کو تو مطعون نہیں کرتے کہ عیسائیت نے یہ تعلیم دی تھی جن ظالموں نے