خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 974 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 974

خطبات طاہر جلد 13 974 خطبہ جمعہ فرمودہ 23 دسمبر 1994ء بوجھ تو اٹھا ئیں جبکہ آپ کے پاس مستقل عملے موجود ہیں ، ہر قسم کی سہولتیں موجود ہیں لیکن پتا نہیں کیا وجہ ہے کہ عام طور پر تو اللہ کے فضل سے وہ بڑی مستعدی سے لبیک کہتے ہیں مگر اس معاملے میں بہت غفلت دکھائی گئی ہے اور ابھی تک روز مرہ کے ایک گھنٹے کا پروگرام بھی ان کی طرف سے نہیں آسکا۔ہفتے میں بھی ایک گھنٹے کا آجائے تو ہم غنیمت سمجھتے ہیں اور یہ سارا بوجھ جو ہے یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہاں کے جسوال برادران نے ایک حصے کا بوجھ اٹھایا ہوا ہے اور باقی ہمارے انگلستان کے خاص طور پر لندن کے مخلص نوجوان جو یا طالب علم ہیں یا اپنا کوئی کام کر رہے ہیں انہوں نے رفیق حیات صاحب کی قیادت میں یہ بوجھ اٹھایا ہوا ہے کچھ بچیاں ہیں وہ بھی سکول کی عمر سے لے کر کالج کی عمر اور پھر گھر کے کام کاج کرنے والی خواتین اور بڑی وفاداری کے ساتھ ، بڑی ہمت کے ساتھ ، بڑی محنت کے ساتھ یہ عظیم ذمہ داری سرانجام دے رہے ہیں۔لیکن جو ملتا ہے وہ صرف یہ کہ فلاں نقص رہ گیا ، فلاں نقص رہ گیا۔فلاں نقص رہ گیا، فلاں نقص رہ گیا۔اس کا بھی کوئی حرج نہیں اس میں بعض دفعہ صحیح طور پر متوجہ کیا جاتا ہے لیکن یہ کوئی نہیں بتاتا کہ ہم نقص دور کر کے تمہیں دکھاتے ہیں کہ ایسے نقص دور کیا جاتا ہے وہ آوازیں دے رہا ہوں میں اور ابھی تک اس کا کوئی جواب نہیں آ رہا۔تو جماعت کو میں متوجہ کرتا ہوں کہ زیادہ سنجیدگی سے ہر ملک کے صدر مقام میں ایسی ٹیمیں بنائی جائیں اور الگ ایک محکمہ بنایا جائے ، شعبہ اشاعت کے تابع جو بھی شعبہ اس کے قریب تر ہو اس کے تابع بنایا جائے اور ان کی امیر نگرانی کرے اور ان سے پروگرام بنوا کر دیکھے کہ واقعہ کام آگے بڑھ رہا ہے کہ نہیں۔اب اس پروگرام کے نہ ہونے کی وجہ سے جو جنوری میں ہمارا نیا پروگرام چلنا تھا وہ کم سے کم ایک ہفتہ اس میں تاخیر کرنی پڑی ہے کیونکہ جس قسم کے تعاون کی ضرورت تھی وہ ابھی تک حاصل نہیں ہوسکا۔میں جانتا ہوں اس میں بہت سی وقتیں ہیں، یہ میں جانتا ہوں کہ یہ اخلاص کی کمی وجہ سے نہیں ہے بلکہ بہت سی باتوں میں لاعلمی کی وجہ سے ہے۔اول تو توقعات بہت اونچی کر دی جاتی ہیں حالانکہ بارہا کہہ چکا ہوں کہ معیار اونچا کرنے کی کوشش اچھی بات ہے لیکن ہونا نہ ہونے سے بہر حال بہتر ہے۔اس لئے ہاتھ توڑ کے بیٹھ جائیں اور یہ کہ ہمارے پاس اعلیٰ مشینیں نہیں ہیں ، ہم نے ابھی تک ٹریننگ حاصل نہیں کی، ہمارے پاس اچھے لکھنے والے نہیں ہیں اور وہ قیمتی سامان نہیں ہے جن کہ کے ساتھ ٹیلی ویژن کے پروگرام سجتے ہیں، یہ باتیں درست نہیں ہیں یہ سوچیں ہی غلط ہیں۔جو توفیق ہے