خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 969
خطبات طاہر جلد 13 969 خطبہ جمعہ فرموده 23 دسمبر 1994ء مؤمنانہ تعاون کی ضرورت ہے۔آپ اپنی ٹیمیں بنائیں، کارکن بنائیں،ان کو تربیت دینے میں بھی مرکزی منتظمین حتی المقدور تعاون کریں گے۔تو معمولی خرچ جو اٹھتے ہیں وہ تو ہر ملک خود ذمہ دار ہوتا ہے اور ہر ملک پہلے ہی کر رہا ہے۔تو ایک تو ان پروگراموں کے سلسلے میں یہ عادت پیدا کریں کہ ہر بات جو نیک نصیحت کی جائے اس میں ہاتھ نہ آگے بڑھا ئیں۔میں جانتا ہوں کہ ہم سب کے ہاتھ ایک ہی ہیں۔یہاں دینے اور لینے والے ہاتھ کا اس طرح فرق نہیں ہے مگر وہ ذمہ داریاں جو ملکی سطح پر سر انجام دی جاسکتی ہیں ان کا بوجھ مرکز پہ ڈالنا جس پر اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بہت بڑی بڑی عالمی ذمہ داریاں جن میں آپ کے ملک کی ذمہ داریاں بھی شامل ہیں، پہلے ہی بہت ہیں۔اس پہلو سے کوشش کریں کہ مرکز کا بوجھ چندوں کی ادائیگی کے ذریعے تو آپ بڑاہی رہے ہیں اللہ کے فضل کے ساتھ لیکن ان کے اخراجات میں ایسے سلیقے سے کام لیں کہ بہت سے اخراجات جو آپ وہاں پورے کر سکتے ہیں، و ہیں پورے کریں اور جو عالمی ضرورتیں ہیں ان میں حصہ لیں۔آپ کا اجر یہ ہوگا کہ سارے عالم میں جو محنت ہوگی آپ بھی اس سے حصہ پائیں گے، اس کا فیض آپ کو بھی نصیب ہوگا۔تو یہ جو اجتماعی کوششیں ہیں یہ کلوا جميعا کی سی حیثیت رکھتی ہیں ، سب اپنا اپنا کھانا لے کر آتے ہیں اور ایک جگہ اکٹھے ہوکر اس میں بہت تنوع پیدا ہو جاتا ہے اور دعوت سج جاتی ہے اور اچھے محبت کے ماحول میں ایسے کام ہوتے ہیں جو ویسے اگر کئے جائیں اجتماعی طور پر تو بہت خرچ چاہیں گے، بہت سے انتظامی تقاضے کریں گے اور اتنی بعض دفعہ کسی جماعت میں صلاحیت نہیں ہوتی کہ اکٹھے یہ سارے کام کر سکے مگر جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کلوا جمیعا میں اللہ کے فضل سے بہت سی برکتیں ہیں۔تو یہ بھی ایک دستر خوان ہے اور ایک عالمی دستر خوان ہے نعمتوں کا جو اللہ تعالیٰ نے جماعت کے لئے بچھایا ہے اور آپ ڈشوں میں اس کو اتارتے ہیں اور اس نعمت سے فائدہ اٹھاتے ہیں تو اس پہلو سے سب نے كلوا جميعا کرتا ہے اس کلو اجمیعا کے سلسلے میں کچھ ہدایات میں نے آپ کو گزشتہ خطبے میں دی تھیں کچھ میں اب وہ ہدایات دوں گا۔لیکن اس مضمون کو آگے بڑھانے سے پہلے میری نظر پڑی ہے یادداشت پر۔آج جماعت احمدیہ نائیجیریا کا بھی جلسہ سالانہ 23 دسمبر سے شروع ہو رہا ہے۔یہ حسن سنمونو صاحب نئے امیر جو ہیں