خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 965
خطبات طاہر جلد 13 965 خطبہ جمعہ فرمودہ 16 / دسمبر 1994ء تا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اس ٹیلی ویژن کے پروگرام کو صرف دلچسپی کا موجب نہ بنائیں بلکہ بہت ہی مفید اور کارآمد پروگرام بنادیں کہ دشمن بھی مجبور ہو اس ٹیلی ویژن کو دیکھنے پر۔اس سلسلے میں امریکہ میں ایک جماعت میں ایک کام دے کے آیا تھا ابھی تک مجھے اس کی اطلاع نہیں ملی ہمارے بھانجے ہیں مرزا مغفور احمد صاحب ، ڈاکٹر ہیں، انہوں نے مجھے بتایا کہ اب یہاں نیا تجربہ ہوا ہے کہ مثلاً مکئی کے کھیت ہیں ان میں ٹانڈوں کو کھڑا رہنے دیا جاتا ہے اور چھلیاں اتار کر استعمال کر لیتے ہیں اور جب اگلا موسم آتا ہے کاشت کا، اس وقت تک وہ گل سڑ کر ویسے ہی نیچے گر چکے ہوتے ہیں، صرف ایک ہل دیتے ہیں اور بیج پھینک دیتے ہیں کوئی دوسرا ہل نہیں دیتے کوئی سہا گہ نہیں دیتے۔اور اس کے باوجود وسیع پیمانے پر تجربے ہوئے ہیں کہ اوسط دوسرے طریق سے گری نہیں ہے۔اب پاکستان جیسے غریب ملک میں اور ہندوستان جیسے غریب ملک میں اور بنگلہ دیش جیسے غریب ملک میں جہاں ٹریکٹر کے اخراجات بے شمار ہیں وہاں اگر ان طریقوں کو نمونہ جاری کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت سی سہولتیں مہیا ہوسکتی ہیں۔یہ لمبی بحث کا اب وقت بھی نہیں ہے لیکن پوری طرح میں نے معاملے کو سمجھ لیا ہے اور تحقیق کی ہے اور اس میں ایک حکمت ہے۔ان سے میں نے کہا کہ آپ بنا ئیں پروگرام۔ان فارموں کے زمینداروں کے پاس جائیں ان فارمز میں پہنچیں اور بنا کے ہمیں بھجوائیں MTA کے لئے تا کہ پاکستان اور غریب ملکوں میں ایک نیا طریقہ کم قیمت پر اچھی کاشت کا سکھا دیا جائے اور یہ جو علاقے ہیں جن کی میں بات کر رہا ہوں یہاں اوسط پیداوار ستر من فی ایکڑ ہے ایک بل کے ساتھ اور ہمارے ہاں دس دس ہلوں کے بعد بھی بمشکل تمھیں پینتیس من تک پہنچتی ہے تو کہیں کہیں بہت بھی بڑھ جاتی ہے لیکن میں عموما بات کر رہا ہوں اوسط تو تیں من بھی نہیں ہوتی۔تو ایسے بہت سے دلچسپ پروگرام میں مختلف ملکوں میں جو تجربے ہورہے ہیں۔پانی کی بچت کیسے کی جاسکتی ہے۔باغوں کو کس طرح بہت تھوڑے پانی میں عمدگی کے ساتھ پالا جاسکتا ہے۔یہ سارے ایسے کام ہیں جن میں ہمارے کہیں بعض احمدی بھی ریسرچ کر رہے ہیں تو ان کو کہہ چکا ہوں ان کی طرف سے بھی آنے چاہئیں اور آپ سب کو دنیا میں جتنے احمدی جہاں جہاں بھی ہیں کوئی ایسی چیز معلوم ہو جس کو وہ اپنے دوسرے بھائیوں کے ساتھ مشترک کر کے اپنے فیض کو عام کر سکتے ہیں۔