خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 953 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 953

خطبات طاہر جلد 13 953 خطبہ جمعہ فرمودہ 16 دسمبر 1994ء میرا خیال تھا کہ اسے بھی چھ گھنٹے کر دیا جائے تا کہ تمام دنیا میں کم از کم چھ یا ساڑھے پانچ گھنٹے کے پروگرام یکساں ہو جائیں لیکن مشکل یہ ہے کہ امریکہ اور کینیڈا ابھی تک اپنے تین گھنٹے کے پروگرام کو ہی جذب نہیں کر سکے۔انہوں نے آگے وقت لینا ہے وہاں پروگرام بنانے ہیں اور پھر دوبارہ وہاں سے یہی پروگرام نشر کرنے ہیں یا کچھ اور بیچ میں شامل کرنے ہیں۔تو اب جب ان پر ذمہ داری پڑی ہے تو ان کو سمجھ آئی ہے کہ کتنا مشکل کام تھا اور وہ تین گھنٹے سے زیادہ کی ابھی تک استطاعت نہیں رکھتے۔تو جب وہ چار گھنٹے بھی استعمال نہیں کر سکے تو ان کو چھ گھنٹے دینے کا مطلب ہی کوئی نہیں تھا۔جو چوتھا گھنٹہ ہے ہمارا وہ افریقہ کے زیادہ کام آتا ہے اور ان سے میں نے کہا ہے کہ افریقہ کے خصوصی پروگرام اس چوتھے گھنٹے میں رکھیں اور اس میں بھی اب یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ زیادہ وقت کی ضرورت ہے۔مگر صرف افریقہ کے لیے اتنا بڑا خرچ کرنے کی ابھی استطاعت نہیں ہے یا ہے تو یوں کہا جا سکتا ہے کہ نسبتی طور پر استطاعت نہیں ہے۔اس موقع پر وقت کے متعلق حضور نے ایک اصلاح کرتے ہوئے فرمایا: ہاں وقت کی یہ اصلاح آئی ہے جو طے ہوا ہے آخری۔ابھی وہ وسیم جسوال نے کنٹریکٹ سائن (Contract Sign) کیا ہے۔وہ کہتے ہیں یورپ کے لئے ساڑھے پانچ گھنٹے کا جو وقت ہے وہ ساڑھے گیارہ سے شروع ہو کر پانچ بجے تک ختم ہو گا مراد اس سے یہ ہے کہ انگلینڈ میں ساڑھے گیارہ بجے سے شروع ہو کر پانچ بجے تک رہے گا اور یورپ میں ساڑھے بارہ شروع ہو کر چھ تک رہے گا۔اس لئے یورپ کا وقت، کیونکہ یورپ کمپنیوں سے ہمارے معاہدے ہیں وہ چھ تک پہنچنا بہت ہی مہنگے سکیل میں داخل ہو گئے ہیں ہم۔چار بجے سے آگے بڑھ کر بلکہ تین سے چار تک بھی مہنگا ہو جاتا ہے، چار سے آگے تو پھر بہت مہنگائی شروع ہو جاتی ہے تو ہمیں عملاً وہاں اڑھائی گھنٹے مہنگا یورپین وقت خریدنا پڑا ہے تب جا کر یہ شکل نکلی ہے کہ انگلستان میں ساڑھے گیارہ سے پانچ تک اور یورپ میں ساڑھے بارہ سے چھ تک یہ کل ساڑھے پانچ گھنٹے کا پروگرام ہے۔اب میں دوسرے بعض پروگراموں کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔بہت سے علمی پروگرام ایسے جماعت کی خدمت میں پیش کئے جارہے ہیں جو ابھی اپنی تشکیل میں مکمل نہیں ہو سکے اور جس حالت میں بھی ہیں وہ جماعت کے سامنے پیش کئے جارہے ہیں لیکن ابھی پوری طرح سب دنیا کے