خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 944 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 944

خطبات طاہر جلد 13 944 خطبہ جمعہ فرمود : 9 دسمبر 1994ء جس شخص نے محسوس کیا کہ اس سے زیادتی ہوئی ہے اس کا فرض ہے کہ اس کی معرفت ،اس کے وسیلے سے وہ خلیفہ وقت تک اپنی درخواست پہنچائے اور جہاں بھی کبھی ایسے شخص کی زیادتی ثابت ہوئی ہے کبھی اس سے نرمی کا سلوک نہیں ہوا کیونکہ اس نے ایک اور پر ظلم کیا ہے۔اس لئے خلیفہ وقت اس وقت اپنے آپ کو معافی کا مجاز نہیں سمجھتا وہ لازماً اس کے شر سے باقی جماعت کو بچاتا ہے۔تو جب یہ علاج موجود ہوتو پھر بد تمیزی اور بد زبانی کا جواز کہاں باقی رہ جاتا ہے۔پھر اگر کوئی کرتا ہے یہ کارروائی نہ کرے اور اپنے ہاتھ میں اپنے بدلے لے لے تو آنحضرت ﷺ کا یہ حکم اس پر بھی لگے گا کہ جس نے ہم پر ہتھیار اٹھائے تو وہ مجھ سے نہیں ہے۔نہ میں اس سے ہوں ، نہ وہ مجھ سے ہے۔تو بسا اوقات اسی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی نصیحت کی روشنی میں میں پھر لکھ دیا کرتا ہوں کہ یہ بات ہے تو اخراج تمہارا جماعت سے ہو یا نہ ہولیکن میرا تم سے کوئی تعلق نہیں تمہارا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔پھر بعضوں کو اللہ تعالیٰ ہدایت دیتا ہے بعض ایسے ہیں جو بھٹکتے رہتے ہیں۔تو رسول اکرم ﷺ کی نصائح بظاہر چھوٹے دائرے سے بھی تعلق رکھتی ہوں تو جب آپ ان پر غور کرتے ہیں تو ان کا دائرہ فیض پھیلتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ان کا دائرہ اثر وسیع ہوتے ہوتے بہت وسعت اختیار کر جاتا ہے اور ہمارے اس زمانے کے مسائل ہی کو حل نہیں کرتیں جو وہ رسول اکرم ﷺ کی ظاہری جسمانی زندگی کا زمانہ بھی تھا بلکہ آپ کے تمام روحانی زندگی کے زمانے سے آپ ک نصائح تعلق رکھتی ہیں۔اب غصے میں ایک انسان کسی دوسرے سے لڑ پڑتا ہے تو اس کے متعلق آنحضور نے کیا فرمایا۔حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔جب دو مسلمان تلوار لے کر ایک دوسرے سے لڑنے لگیں گے ان میں سے کوئی قتل ہو جائے گا تو قاتل و مقتول دونوں آگ میں جائیں گے۔( بخاری کتاب الایمان حدیث نمبر : 30) اس کا مطلب ہے؟ اس بات کو سن کر صحابہ کو بھی تعجب ہوا اور ان میں سے کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ قاتل کو تو آگ میں جانا ہی چاہئے لیکن مقتول کیوں آگ میں جائے گا۔آپ نے فرمایا وہ بھی تو اپنے مد مقابل کے قتل کا آرزومند تھا۔اب یہ صاف ظاہر ہوا کہ یہ جو نصیحت ہے ہر محل پر نہیں آرہی، ایک خاص محل سے تعلق رکھتی ہے۔جہاں دونوں لڑ پڑیں اور دونوں تلوار میں نکال لیں۔اس میں دونوں ذمہ دار ہیں اور اگر ایک پر کوئی حملہ آور ہوا ہے اور وہ اپنے دفاع کے لئے مجبور ہے اس کا اس حدیث سے کوئی تعلق نہیں ہے۔فرمایا دونوں طیش میں