خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 935 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 935

خطبات طاہر جلد 13 935 خطبہ جمعہ فرمودہ 9 / دسمبر 1994ء اختیار نہیں کرتا یا مالی بددیانتی کا مرتکب وہ ہو جاتا ہے تو اس کے متعلق پھر مجھے مجبور آیہ فیصلہ دینا پڑتا ہے کہ اس سے آئندہ کوئی چندہ وصول نہیں کیا جائے گا اور یہ بڑی محرومی ہے۔جن کو سمجھ آجاتی ہے وہ تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسی دھکے کے نتیجہ میں سنبھل جاتے ہیں اور بعض اس دھکے کے نتیجے میں ٹھوکر کھا کر گر پڑتے ہیں اور ختم ہو جاتے ہیں لیکن اس کے سوا چارہ نہیں ہے۔پس جو قرضوں کے معاملات میں اور لین دین کے معاملات میں ابھی تک کمزوری دکھا رہے ہیں اور اپنے بھائی کے پیسے کی عزت اور قدر نہیں کرتے ان کو میں متنبہ کرتا ہوں کہ اب ہم نے بہت تیز آگے بڑھنا ہے اور اب ان کو ساتھ لے کر بڑھنے کی طاقت نہیں ہے۔نہ اتنا صبر ہے، نہ وقت کے تقاضے ہمیں اجازت دیں گے کہ ان کو ساتھ ساتھ انگلیاں پکڑ پکڑ کے ضرور آگے بڑھاؤ نہیں رہتے تو پھر الگ ہوجائیں ، ہمارا ساتھ چھوڑ دیں لیکن جماعت جس نے سفر کرنے ہیں اور لمبے سفر کرنے ہیں اور تیز رفتاری سے آگے منزلیں طے کرنی ہیں ان کو تو اب ہلکے پھلکے وزن والے چاہئیں جو اس قسم کے بوجھوں سے آزاد ہوں یعنی ان کے ضمیر پر کسی قسم کے گند کے بوجھ نہ ہوں تا کہ یکسوئی کے ساتھ وہ خدمت کر سکیں۔حضرت سلیمان بن صردرضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں آنحضرت ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور دو آدمی قریب ہی جھگڑ رہے تھے ان میں سے ایک کا چہرہ سرخ تھا، رگیں پھولی ہوئی تھیں۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا میں ایسی بات جانتا ہوں کہ اگر وہ اس بات کو کہے تو اس کی یہ کیفیت جاتی رہے گی۔یعنی اگر وہ کہے کہ میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں دھتکارے ہوئے شیطان سے اعوذ بالله من الشيطان الرجیم تو اس کا غصہ جاتا رہے گا۔اس پر لوگوں نے اس جھگڑنے والے کو کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اگر تو اعوذ بالله من الشيطان الرجیم پڑھے تو تیرا غصہ جاتا رہے صلى الله گا( بخاری کتاب بدء الخلق حدیث نمبر : 3040) اور آنحضرت ﷺ کا پیغام ملتے ہی صحابہ فورا سر تسلیم خم کرتے تھے اور اس طرح فساد کی جڑیں ہی ختم ہو جاتی تھیں یعنی نیست و نابود ہو جاتی تھیں۔تو آج کل بھی تو آنحضرت ﷺ کا حکم اسی طرح چل رہا ہے۔آج بھی تو ہم غلامی کے دعویدار ہیں تو پھر آج کیوں ان نصیحتوں کو سن کر ان پر عمل نہیں دکھاتے۔غصہ بعض دفعہ دماغ کو پاگل کر دیتا ہے اور غصے میں جوانسان اقدام کر بیٹھتا ہے بعض دفعہ ساری عمر پچھتاتا ہے اور پھر بھی اس کا صحیح ازالہ نہیں کر سکتا۔ایک دفعہ مجھے کسی نے لکھا کہ میں نے غصے میں اپنی ماں کو یہ بات کہہ دی تھی ، معافی ہوگئی