خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 88
خطبات طاہر جلد 13 ذکر الہی تھا جو اعجاز بنا تھا۔88 خطبه جمعه فرموده 4 فروری 1994ء پس یہ کہنا کہ جیسے کہ حضرت محمد رسول اللہ اللہ نے چودہ سو سال پہلے مردے زندہ کئے تھے ہم آج کریں گے۔اگر یہ ذکر سے خالی بات ہو تو محض خیالی ہے تو کھوکھلا دعویٰ ہے کچھ بھی نہیں ہونا پھر ،جس عظیم معالج کا حوالہ دے کر آپ اس کی شفاء کی باتیں کرتے ہیں اس کے نسخے کو بھی تو تلاش کرتے ہیں۔بوعلی سینا کا نام اگر علاج کی دنیا میں زندہ ہے تو اس وجہ سے کہ آج اس کے نسخے بھی زندہ ہیں اور صدیاں گزرنے کے بعد آج بھی بہت سے معالج اس کے نسخوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔پس محض معالج کے نام سے کوئی مردہ زندہ نہیں ہوا کرتا اس کے نسخوں سے زندہ ہوا کرتا ہے۔پس دیکھنا یہ ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺہ زندگی کیسے بخشتے تھے۔وہ ذکر الہی کی زندگی تھی۔وہ ذکر الہی سے زندگی پاتے اور ذکر الہی سے زندگی بخشا کرتے تھے اور جنگ کے دوران اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب تمہاری مٹھ بھیڑ ہو جائے تو جب شدت کی گھمسان کی لڑائی ہو، اس وقت وہ یہاں یہ نہیں فرما رہا کہ اپنے ہتھیار تیز کرو، اپنی قوتوں کو چمکاؤ۔بعض دوسری جگہ وہ بھی ذکر ہے۔لیکن یہاں فتح کا راز بیان کیا جا رہا ہے کہ جتنی لڑائی تیز ہوتی چلی جائے، تمہارا مقابلہ ہو، وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرً ا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ثبات قدم رکھو لیکن ذکر الہی سے برکت حاصل کرو، قوت حاصل کرو۔ورنہ تمہیں ثبات قدم بھی نصیب نہیں رہے گا۔بھاگتے ہوئے پیٹھ دکھا کر ذکر کا کوئی مضمون نہیں ہے۔اپنی جانیں پیش کرو، حاضر ہو اور پھر ذکر کرو، پھر دیکھو اللہ تعالیٰ تمہیں کتنی غیر معمولی طاقت عطا فرماتا ہے۔پھر اسی مضمون کو صبر پر جا کے ختم فرمایا کہ صبر کے بغیر کوئی حقیقی کامیابی نہیں ہوسکتی اور صبر ہی ہے جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کی معیت نصیب ہوتی ہے۔پس آج کل جو بھی داعین الی اللہ دنیا میں پیغام دے رہے ہیں ان کو ذکر پر زور دینا چاہئے اور دعوت میں محض دلیلوں سے کام نہ لیں بلکہ ذکر کریں اور ذ کر سکھائیں۔اللہ کی طرف بلانے کا حکم ہے۔عجیب بات ہے کہ قرآن کریم میں کہیں بھی محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف بلانے کا حکم نہیں ہے سوائے اس کے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کو حکم ہے۔کہ تم اپنی طرف بلاؤ۔کیونکہ آپ کی طرف خدا کی طرف تھی۔لیکن ساتھ یہ ہے حکم کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف جب بلا ئیں تو دوڑا کرو، اس طرف جایا کرو۔لیکن مومنوں کو پیغام یہ ہے کہ اللہ کی طرف بلاؤ صلى الله