خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 87 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 87

خطبات طاہر جلد 13 87 خطبہ جمعہ فرموده 4 فروری 1994ء ایک غیر معمولی طاقت ہے۔وہ کمزوروں کو غیر معمولی طور پر بڑے بڑے طاقتوروں کے مقابل پر قو تیں عطا کرتی ہے اور ان پر غالب کر دیتی ہے اور اس طاقت کے ہوتے ہوئے دنیا کی کوئی طاقت ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔اس پہلو سے میں خاص طور پر آپ کو دعوت الی اللہ کے مضمون کے ساتھ ، اس مضمون کو ملانے کی تلقین کرتا ہوں۔ہم بھی آج کل ایک عظیم جہاد میں مبتلا ہیں۔اور ساری دنیا میں اس وقت دعوت الی اللہ کی ہوائیں چل رہی ہیں اور چھوٹے بڑے، مرد کیا اور عورتیں کیا ، سارے دن رات یہی سوچ رہے ہیں کہ کس طرح ہم بھی اس میں کامیاب حصہ لیں۔ہمارے ذریعے بھی خدا تعالیٰ کسی سعید روح کو دائمی زندگی عطا کرے۔وہ جو جہاد ہے وہ جہاد کبر ہے۔ان معنوں میں کہ جو قتال ہے اس کے نتیجے میں دشمن کو مارا جاتا ہے اور جہاد کے نتیجے میں دشمن کو زندہ کیا جاتا ہے۔پس ان دونوں میں نمایاں فرق ہے۔کبھی خدا والے کسی دشمن کو مارنے کے در پے نہیں ہوتے سوائے اس کے کہ وہ مجبور کر دے اور وہ بے اختیار ہو جائیں۔یہاں تک کہ یہ فیصلہ پھر کرنا پڑے یا خدا کے منکر زندہ رہیں گے یا خدا والے زندہ رہیں گے۔اسی مجبوری کے نتیجے میں جہاد قتال میں تبدیل ہوا کرتا ہے۔ورنہ حقیقی جہاد جس کا قرآن کریم میں ذکر ہے وہ مردوں کو زندہ کرنے کا جہاد ہے۔جس میں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ ہمیشہ مصروف رہے اور اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو بات سمجھائی، کھول کر سمجھائی کہ جب یہ رسول، تمہیں اپنی طرف بلائے تا کہ تمہیں زندہ کرے تو تم لبیک کہا کرو، اس کی دعوت کو قبول کیا کرو۔پس آج جماعت احمد یہ ایک عالمگیر زندگی کا پیغام لے کر نکلی ہے۔ایک ایسے عالمگیر جہاد میں جھونک دی گئی ہے خدا کی طرف سے، جس میں ہر چھوٹا بڑا ، مردوں کو زندہ کرنے کے اعلان بلند کر رہا ہے۔اور مردوں کو اپنی طرف بلا رہا ہے کہ آؤ اور اللہ کی فوج کے ساتھ ، حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی برکت سے آج بھی تم زندہ کئے جاؤ گے۔یہ نہ سمجھو کہ اس رسول کو زندگی کا معجزہ ، زندہ کرنے کا معجزہ ، چودہ سوسال پہلے دیا گیا تھا اور اب وہ معجزہ مر چکا ہے۔جیسے وہ رسول آج بھی زندہ ہے اس کے تمام صلى الله معجزات زندہ ہیں اور آج بھی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے دم سے ہی تمام دنیا کو شفاء مل سکتی ہے۔آپ کے اعجاز ہی سے یہ مردے زندہ ہو سکتے ہیں اور اس اعجاز کا رنگ کیا تھا؟ یہ ذکر الہی تھا۔آپ کا