خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 909 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 909

خطبات طاہر جلد 13 909 خطبہ جمعہ فرمودہ 2 /دسمبر 1994ء کے معاملہ میں اپنے خدا کی نظر میں ہے اس بات کا خیال کرو اور وہی ہے جو تمہیں متقی قرار دے تو تم متقی ہو گے ورنہ نہیں۔اس تعلق میں میں وہ احادیث پیش کر رہا تھا جس میں بعض معاشرے کی خرابیوں کی وجہ سے بھائی بھائی سے کٹ جاتا ہے، بہن بہن کے خلاف ہو جاتی ہے، رشتوں میں رخنے ڈالے جاتے ہیں۔بہو اور ساس کے جھگڑے، ساس اور بہو کے وغیرہ وغیرہ اور سارا معاشرہ نفرتوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔اس معاشرے کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اس کی اصلاح کی جتنی بھی کوشش کی جائے وہ اس لئے کم دکھائی دیتی ہے کہ ہر ایسے خطبات کے دور کے بعد جب میں نے اپنی طرف اس مضمون کو خوب کھول کر بیان کیا پھر بھی شکایتیں جاری ہیں۔یہ درست ہے کہ بعض جگہ سے بہت ہی خوشکن باتیں بھی سامنے آئی ہیں۔بعض مردوں نے اپنی دیرینہ عادت کو تبدیل کر دیا اور اپنی بیویوں سے معافیاں مانگیں اور اس کے بعد ان کی بیویوں کے دعاؤں کے خطوط ملے کہ ہمارے خاوند میں تو ایک عجیب پاک تبدیلی پیدا ہوگئی ہے۔بعض بہوؤں نے اپنی ساسوں کو دعائیں دیں کہ پہلے میری زندگی اجیرن تھی اب تو میں بیٹی کی طرح رہتی ہوں۔تو یہ واقعات ہوتے رہتے ہیں جن سے حوصلہ بڑھتا ہے۔جس سے پتا چلتا ہے فَذَكَّرُ انُ نَفَعَتِ الذِكرى (اعلیٰ : 10) تو نصیحت کر ، کرتا چلا جا کیونکہ نصیحت فائدہ ضرور پہنچاتی ہے مگر یہ کہنا کہ ان بد عادات کی بیخ کنی ہو چکی ہے، جڑوں سے اکھڑ گئی ہیں یہ درست نہیں ہے۔یہ تو ایک دائمی جنگ ہے جو خدا کے بندوں اور شیطان کے بندوں کے درمیان چلنی ہی چلنی ہے اور بندے تو بظاہر سب خدا کے ہیں لیکن کچھ عَبَدَ الطَّاغُوتَ قرآن کے بیان کے مطابق وہ اپنے آپ کو خود شیطان کا بندہ بنا لیتے ہیں۔پس اس پہلو سے لڑائی جاری ہے اور ہمیں کوشش یہ کرنی ہے کہ خدا کے بندے اس حد تک غالب آجائیں اور غالب رہیں کہ ان کا حسن ہی معاشرے کی پہچان بن جائے ان چند آدمیوں کی بدی معاشرے کی پہچان نہ ہو جو ہر معاشرے میں بد انسانوں کے طور پر پائے جاتے ہیں۔استثناء حسن نہ ہو استثناء بدصورتی بن جائے۔یہ وہ جہاد ہے جس میں ہمیشہ مستقلاً اپنی تمام طاقتوں کو جھونکے رکھنا ہے اور یہ جہاد کبھی ختم نہیں ہوسکتا۔لیکن جوں جوں اس جہاد میں ہم آگے بڑھتے ہیں بیدار مغزی سے ان چیزوں کا خیال کرتے ہیں، رفتہ رفتہ اور علاقوں کو اور جگہوں کو زرخیز بناتے چلے جاتے ہیں اور حسین بناتے چلے