خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 903 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 903

خطبات طاہر جلد 13 903 خطبہ جمعہ فرمودہ 25 نومبر 1994ء حالانکہ میری کوئی حیثیت نہیں۔ایک قتل کے معاملے میں ایک خاندان میں بڑا اختلاف تھا۔میں جب وہاں گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ تو کسی طرح مانتے نہیں جن کا قتل ہوا تھا ان کی والدہ بزرگ موجود تھیں اس سے میں نے جا کر کہا کہ میں آپ کے گھر آیا ہوں معاف کر دیں ختم کر دیں جماعت کے مفاد کی خاطر۔اسی وقت انہوں نے معاف کر دیا کہ آپ کے منہ کو معاف کرتے ہیں۔ابھی میری ایک ملاقات ایک دوست سے ہوئی۔سیالکوٹ سے آئے ہوئے تھے وہاں بھی یہی صورت حال تھی ایک گاؤں میں بڑا سخت اختلاف اور جھگڑا اور قتل و غارت تک نوبت پہنچی ہوئی۔جس خاندان کا مقتول تھا میں جانتا تھا ان میں سعادت زیادہ ہے ان کو میں نے پیغام بھجوایا کہ آپ چھوڑ دیں اس بات کو۔اسی وقت چھوڑ دیا۔ایک بچہ ان کا بھی ملاقات کے لئے مجھے ملنے آیا مجھے تعارف ہی یہ کرایا کہ میں وہی ہوں ، اس خاندان کا ہوں جس نے آپ کی خاطر، آپ کے منہ سے بات سن کر اپنے حق کو چھوڑ دیا تھا تو لازماً اس کے لئے میرے دل میں محبت اور عزت پیدا ہوئی اور دل کی گہرائی سے جو ایسے موقع پر دعانکلتی ہے وہ ضرور قبول ہوتی ہے مگر میں کیا اور میری دعاؤں کی کیا حیثیت، حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے منہ پر اگر کوئی نیکی اختیار کریں گے آپ کے احترام و عزت کے پیش نظر، یہ دیکھ کر کہ آپ کے لئے آپ نے کتنی محنت فرمائی دنیا کے کسی نبی نے اپنی قوم کے لیے کبھی اتنی محنت نہیں کی جتنی محمد رسول اللہ ﷺ نے آپ کے لئے کی ہے۔سوچیں اور پھر ادب سے جھک جائیں اور پچھلے ہوئے دل سے اطاعت کریں کیونکہ اطاعت کی راہ میں ہمیشہ دل کی انا اور دل کا جوش حائل ہوا کرتا ہے لیکن جو دل محبت راہ اور میں پکھل جاتا ہے اس کی انا کیا ر ہی اور اس کا جوش کیسا۔وہ تو محمد رسول اللہ کے قدموں میں بہنے لگتا ہے اس سے انکار کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔پس محض نصیحتوں کو ان کی غیر معمولی عقل اور فراست کی وجہ سے نہ مانیں اس محبت پر نگاہ کریں، اس رحمت پر نگاہ کریں جو ان نصیحتوں کا منبع ہے یعنی رحمتہ للعالمین حضرت اقدس محمد مصطفی ہے اور پھر اگر آپ جھکیں گے تو ایک زائد بات آپ کی اطاعت میں ایسی پیدا ہو جائے گی جو آپ کو اللہ اور اس کے رسول کا محبوب بنادے گی اور یہی محبت ہے جس کی خاطر انسان زندہ ہے۔یہی ہماری آخری تمنا ہے۔پس اس محبت کے لیے اب وہ راہیں آسان فرما دی گئی ہیں۔پھر آنحضرت ﷺ اس کے بعد فرماتے ہیں ” تقویٰ یہاں ہے۔تقویٰ یہاں ہے“ یعنی الله