خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 902
خطبات طاہر جلد 13 902 خطبہ جمعہ فرمودہ 25 /نومبر 1994ء بدتر بنو ہر ایک سے اپنے خیال میں شاید اسی سے دخل ہودار الوصال میں (در مشین) تم ہر ایک سے اپنے خیال میں بدتر بنو یہ نہیں کہ دوسروں کے خیال میں بدتر بنو۔پھر دیکھو کہ شاید یہی نسخہ کام آجائے اور اللہ کے وصال کے گھر میں تمہارا اسی وجہ سے داخلہ ہو جائے۔پس آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں وہ اسے حقیر نہیں جانتا کیونکہ جب وہ اپنے نفس پر غور کرتا ہے تو پھر اس کی آواز یہ ہے کہ تم حقیر ہو اور اگر تمہاری عزت ہے تو محض خدا کی پردہ پوشی کی وجہ سے ہے۔اگر تمہیں کوئی مرتبہ اور مقام حاصل ہے تو محض اللہ کے احسان اور فضل کے نتیجہ میں ہے۔جب ایک انسان اس حقیقت کو پا جاتا ہے تو اپنے بھائی کو اپنے سے کم درجہ دیکھتا ہے تو شرمندگی محسوس کرتا ہے حقیر نہیں سمجھتا اس کو اور یہ واقعہ ہے کہ اس کے نتیجہ میں لازماً شرمندگی ہوتی ہے شرمندگی اس بات کی کہ دیکھو یہ مجھ سے زیادہ محنت کرنے والا ، مجھ سے زیادہ اخلاص رکھنے والا ، مجھ سے زیادہ بعض باتوں میں ،قربانیوں میں آگے بڑھا ہے لیکن میں اس سے بہتر حال میں ہوں تو ایسی صورت میں سوائے شرمندگی اور استغفار کے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا لیکن حقیر جاننے کا کوئی تصور بھی اس میں پیدا نہیں ہوتا۔تو جس گہرائی تک ڈوب کر یعنی نفسیات کی جس گہرائی میں ڈوب کر حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ ہماری تربیت پہ کوشش فرمار ہے ہیں اس کا کچھ پاس کرو۔غور کروکون ہے جو ہمارے لئے اتنی محنت کر رہا ہے۔وہ پاک وجود جو چودہ سو سال پہلے پیدا ہوا جس کی خاطر کائنات پیدا کی گئی۔وہ ہم جیسے ذلیل لوگوں کے لئے اتنی محنت کرتا ہے راتوں کو جاگتا تھا ، دعائیں کرتا تھا ایک ایک بیماری کو کھول کھول کر بیان کرتا تھا، ہر بیماری کی شفا کے طریق بتاتا تھا اور ان باتوں کو سن کر بعض صرف خیالی طور پر مزے لے کر کہ ہاں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آمنا و صدقنا ایک قدم آگے نہیں بڑھتے محض نصیحت کی طاقت نہیں ہے۔نصیحت کرنے والے کی اپنے سے محبت اور اپنے لئے قربانیوں کو دیکھو کہ تم میں جرات ہی نہیں ہوسکتی کہ ان نصیحتوں کو نظر انداز کر دو۔بعض لوگ یہ کہہ دیتے ہیں کہ ٹھیک ہے باتیں ہوں گی بچی یا نہیں ہم تو آپ کے منہ کو یہ بات کر رہے ہیں آپ کی خاطر یہ بات مان رہے ہیں اور ایسا کئی دفعہ ہوا ہے مجھ سے بھی ہو چکا ہے