خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 888 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 888

خطبات طاہر جلد 13 888 خطبہ جمعہ فرموده 25 نومبر 1994ء جہاں تک یہ نتیجہ نکالنے کا تعلق ہے کہ اس سے چغل خور بھی مراد ہیں تو یہ بعید نہیں ہے کیونکہ چغل خور کے ساتھ یہ لعنت ضرورلگتی ہے اور اس کا ایک لازمی جزو بن جاتی ہے۔ایک انسان ادھر کچھ بات کرتا ہے، ادھر کچھ بات کرتا ہے۔جتنے بھی چغل خوری کے نتیجہ میں فساد پھیلتے ہیں اور قریبی قریبوں سے لڑ پڑتے ہیں اور بعض دفعہ وہ فساد لمبے ہو کر رشتوں کے انقطاع پر جا پہنچتے ہیں۔رشتے ٹوٹ جاتے ہیں، خونی رشتے بھی ایسے ٹوٹتے ہیں پھر ان کا جوڑنا مشکل ہو جاتا ہے۔ان پر آپ سب نے کبھی نہ کبھی نظر ڈالی ہوگی جو میں اپنی یادداشت سے یہ باتیں مستحضر کر رہا ہوں اپنے ذہن میں، ان دونوں باتوں کا بہت گہرا تعلق مجھے دکھائی دے رہا ہے۔وجہ یہ ہے کہ ایک شخص یا خصوصاً چونکہ خواتین میں یہ بات زیادہ یاخ پائی جاتی ہے اس لیے خواتین سے معذرت کے ساتھ میں خاتون کی مثال آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ایک خاتون نے کوئی بات کی وہ بات اس خاتون تک پہنچی جس کے متعلق بات ہوئی تھی اور ایسے رنگ میں پہنچی جس میں کچھ زیادہ تلخی پائی گئی، بجائے اس کے کہ بعینہ اس طرح پہنچتی اور بعض دفعہ یہ بھی ہوتا ہے کہ بعینہ اسی طرح پہنچادی جاتی ہے مگر بات ایسی ہے جس کے نتیجہ میں لازماً ان دونوں کے تعلقات کا بگڑنا تھا۔جب وہ سننے والی یہ بات سنتی ہے تو یہ پہلے عہد کر کے سنتی ہے کہ میں آگے کسی سے بات نہیں کروں گی۔تو سب سے پہلے اس کے دومنہ ہو جاتے ہیں۔یعنی وہ بات سنتی ہے اور پھر طیش میں آکر بلا توقف دوسری خاتون پر حملہ آور ہوتی ہے۔دھاوا بول دیتی ہے اس پر ، اور اس کا سارا عہد کہ میں خاموش رہوں گی اور اپنے تک رکھوں گی وہ جھوٹا ثابت ہوتا ہے تو اس کے دو مونہہ بن گئے اور جو سنانے والی ہے اس کے پہلے ہی دومنہ ہو چکے ہوتے ہیں کیونکہ جب وہ مجلس میں بیٹھتی ہے تو امانت پہ بات ہورہی تھی اور اگر واضح طور پر نہیں بھی کہا گیا تھا تو ایک عام دستور سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ جب ایک انسان کسی تیسرے شخص کے متعلق کسی سے بات کرتا ہے جو کچھ نا پسندیدہ پہلو رکھتی ہے تو اس یقین اور اعتماد پر کرتا ہے کہ یہ بات اسے آگے نہیں پہنچائے گا ورنہ اگر پہنچانی ہو تو وہ خود کیوں نہ پہنچا دیتے تو دو منہ سے بات شروع سے ہی چل رہی ہے ایک سننے والی کے دومنہ بن گئے اور پھر جب وہ واپس پہنچے گی لڑنے کے لئے تو پھر یہ دو مونہہ پھر آگے دو دومنہ بنتے چلے جائیں گے۔وہ کہے گی جھوٹ بول رہی ہے میں نے یہ تو نہیں کہا تھا۔میں نے تو یہ کہا تھا اور وہاں سے پھر ایک جھوٹ کا تیسر اسلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور بسا اوقات اگر اس نے کہا بھی تو پھر دوسرے معنے پہنانے کی کوشش کرتی ہے۔بعض دفعہ دوسری کو جھوٹا۔