خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 839
خطبات طاہر جلد 13 839 خطبہ جمعہ فرموده 4 نومبر 1994ء مال تھوڑا ہو اور انسان اس مال کی نسبت سے قربانی کرتا ہے اس طرح اگر ایک انسان کی صلاحیتیں تھوڑی ہیں تو اس کا تقویٰ بھی بظا ہر تھوڑا دکھائی دے گا۔مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر تم استطاعت کے مطابق تقویٰ اختیار کرو تو میرے نزدیک تم ایسے شمار ہو گے گویا تم نے جو کچھ تھا سب کچھ پیش کر دیا۔تو تقوی استطاعت کے مطابق، یہ پہلی دفعہ قرآن کریم میں ایک نیا مضمون پیش فرمایا گیا ہے اور اس کے ساتھ فرمایا وَ اَطِیعُوا وَأَنْفِقُوا خَيْرًا لِاَنْفُسِكُم گویا کہ مال کی قربانی کا تقویٰ کی استطاعت سے تعلق ہے۔یہاں مال کی استطاعت کہہ کر خرچ کرنے کا نہیں فرمایا بلکہ تقویٰ کی استطاعت کے مطابق خرچ کرنے کا فرمایا ہے۔بہت ہی گہر ا مضمون ہے اگر ہم اس پر نظر رکھیں تو اس میں ہمارے لئے عظیم الشان فوائد مضمر ہیں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی ایسی قربانی، قربانی نہیں ہے جو تقویٰ کی استطاعت سے تعلق نہ رکھتی ہو۔تقویٰ کی استطاعت سے اگر قربانی بڑھ جائے تو وہ نقصان کا موجب ہے فائدے کا موجب نہیں ہے۔یہ بہت ہی گہری بات ہے جو اس میں بیان ہوئی ہے اس کو خوب اچھی طرح سمجھ لیں۔تقویٰ کی استطاعت کے اندر قربانیاں کرنا یعنی ہر قربانی تقوی کی چادر میں لپٹی ہوئی ہو، کوئی عضو اس کا باہر نہ ہو۔اگر تم قربانیاں بڑی بڑی پیش کر رہے ہو گے لیکن تقویٰ کی استطاعت سے باہر ہیں تو اس کا مطلب ہے یا ریاء کی خاطر کر رہے ہو یا اور دیگر نفسانی اغراض کی خاطر کر رہے ہو۔خدا کے ہاں وہ مقبول نہیں ہوں گی۔پس فرمایا قربانیوں میں یا درکھنا تمہاری تقوی کی شان اور اس کے مقام اور مرتبے کے مطابق ہونی چاہئیں۔جس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس سے کم بھی نہ ہوں۔اپنے تقویٰ پر نظر رکھ کر قربانیاں پیش کرو۔پس بعض لوگ جو محض حسد کے طور پر بعض قربانی کرنے والوں پہ اعتراض کرتے ہیں اور جماعت پر اعتراض کرتے ہیں کہ جن کو مالی قربانی کی توفیق مل رہی ہے انہی کی عزت ہے یہاں۔اول تو یہ بات درست نہیں ہے۔جماعت میں مالی قربانی کا حساب دیکھ کر عزت نہیں کی جاتی۔عزت ایک انسانی حق ہے اور ایک عام انسانی اخلاق سے تعلق رکھنے والا معاملہ ہے۔اس کا کسی کی مالی قربانی سے تعلق نہیں ہے لیکن مالی قربانیوں والے کے لئے اگر دل میں محبت پیدا ہو اور اس کے لئے دعا زیادہ دل سے نکلے تو یہ ایک طبعی امر ہے اسے روکا نہیں جاسکتا۔پس یہ خیال دل سے نکال دینا چاہئے کہ مالی