خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 835 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 835

خطبات طاہر جلد 13 835 خطبه جمعه فرمود و 4 نومبر 1994ء دراصل ایک اضافی چیز ہے جسے سمجھنا ضروری ہے۔وہ لوگ جو خدا کی خاطر تنگی میں بھی قربانی کرتے ہیں ان کی قربانی کا درجہ امارت کی حالت کی قربانیوں سے زیادہ بڑا ہوتا ہے۔خصوصا جس نے اچھے دن دیکھے ہوں اور اچھے رہن سہن کی عادت پڑ گئی ہو جب اس پر تنگی کا دور آتا ہے تو اس کے لئے اپنے خرچوں کا کم کرنا بہت مشکل کام ہو جاتا ہے۔مگر جو خدا کی رضا کی خاطر اعلی قربانیاں دے چکے ہوں ان کے اندر ہم نے واقعہ یہ روح دیکھی ہے کہ اپنے پہلے دنوں کی قربانیوں کو چونکہ کم نہیں کرنا چاہتے اس لئے اپنی ذات پر زیادہ بوجھ ڈال کر اور اپنی دنیا کی ضرورتوں کو زیادہ کاٹ کر پھر دیتے ہیں۔تو ضعْفَيْنِ کا یہ مطلب ہے۔دنیا کے باغات میں یہ منظر آپ کو کہیں دکھائی نہیں دے گا مگر روحانی دنیا کے باغات میں بعینہ یہی منظر ہے جو دکھائی دیتا ہے اور میں اس کا گواہ ہوں کیونکہ کثرت سے مجھے ایسے لوگوں کے جن پر یہ واقعات گزرے خطوط آتے ہیں ان کے دل کا درد مجھ تک پہنچتا ہے کہ ایک وقت تھا ہمیں خدا نے یہ توفیق بخشی تھی اب ہم مجبور ہیں چندے کم کرنے کو دل نہیں چاہتا تو میری بیوی نے اپنا زیور دے دیا، میں نے یہ کر دیا، ہم نے اپنی جائیداد بیچ دی۔حیرت انگیز قربانیاں ہیں جس کی وجہ سے دل ان کے اخلاص کی گرمی سے پگھلنے لگتا ہے۔تو قرآن کا کلام بہت سچا کلام ہے کسی انسان کا بنایا ہوا کلام نہیں ہے ورنہ ناممکن تھا کہ کوئی انسان یہ منظر کشی کرتا اور یہ کہتا کہ جب پانی کم ہو جاتا ہے صرف شبنم پر وہ باغ پلتا ہے تو اس کا پھل دگنا ہو جاتا ہے۔کیسے دگنا ہو سکتا ہے، کیسے انسانی سوچ اس تناظر کا تصور کرسکتی ہے۔پس یہ انہی کلام ہے جو بالکل سچا ہے اَصَابَهَا وَابِلٌ فَاتَتْ أُكُلَهَا ضِعْفَيْنِ یہ عجیب باغ ہے جو خدا کی محبت کا باغ ہے کہ جب اس پر غربت کا دور آتا ہے ، جب اس پہ تگی کا دور آتا ہے تو پہلے سے دگنا پھل دینے لگتا ہے یہاں ایک اور پہلو یہ ہے کہ اللہ کی نظر میں وہ پھل دگنا ہو جاتا ہے ان کے اخلاص اور محبت کی وجہ سے تنگی کی وجہ سے پھر یہ بات نہیں رہتی کہ چونکہ امیر تھے قربانیاں دیں بلکہ یہ صورت ابھرتی ہے کہ رضائے باری تعالیٰ کی خاطر تھی اب دیکھو نگی بھی آئی ہے تب بھی قربانیاں دے رہے ہیں ہر حال میں ان کی قربانیوں کا جذبہ قائم رہتا ہے پس اس پہلو سے ان پر زیادہ پیار کی نگاہ پڑتی ہے اور اللہ کی نظر میں ان کا پھل دگنا دکھائی دیتا ہے اور ان عام لوگوں کے ساتھ بھی یہ مضمون تعلق رکھتا ہے جو غربت کی حالت میں ویسی ہی قربانیاں دیتے ہیں ، یہاں موازنے کی بات نہیں ہوگی بلکہ یہ مضمون ہوگا کہ خدا