خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 820
خطبات طاہر جلد 13 820 خطبہ جمعہ فرمودہ 28 اکتوبر 1994ء بالعموم اس پہلے طبقے سے بھی اور اس سے نچلے طبقے والوں سے بھی اس کا فاصلہ بڑھ جاتا ہے پھر جب اور ترقی کرتا ہے ایک اور طبقے میں قدم رکھتا ہے تو اس کا فاصلہ اور بڑھ جاتا ہے۔یہاں تک کہ جوامیر لوگ ہیں ان کے محلے الگ ، ان کی کوٹھیاں الگ، ان کے سفر الگ، ان کا روز مرہ کا رہن سہن تمام دوسرے انسانوں سے کٹ کے الگ ہو جاتا ہے اور یہ ایک ایسی بات ہے فطرتی طور پر ہمارے مزاج میں داخل ہونے والی کہ ہمیں اس کا شعور نہیں رہتا کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔فطرتی طور پر میں نے جو کہا یہ مراد نہیں کہ انسان کو اس فطرت پر پیدا کیا گیا ہے فطرتی طور پر صرف ان معنوں میں کہہ رہا ہوں کہ ہمارے روز مرہ کے مزاج میں اتنی داخل ہوگئی ہے کہ گویا یہ فطرت ثانیہ بنی ہوئی ہے اور ہم محسوس نہیں کرتے کہ ہم دنیا سے الگ ہورہے ہیں اور پہلوں سے کٹ رہے ہیں۔بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جب وہ بڑے ہوتے ہیں تو اپنے ماں باپ سے بھی کٹ جاتے ہیں اور یہ بہت بڑی بد بختی ہے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ تم لوگوں میں رہو، ان کے ساتھ رہو، ان سے کٹنا نہیں۔اگر تم بنی نوع انسان سے کٹ گئے تو خدا سے کاٹے جاؤ گے۔یہ مفہوم ہے اور جو بنی نوع انسان کے ساتھ رہتا ہے اللہ اس کے ساتھ رہے گا اور جس کے ساتھ اللہ رہے اس کے اوپر یقینا جہنم حرام ہے۔مگر جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے لوگوں میں ہٹنے اور کٹنے کی عادت ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں بعض دفعہ یہ ہوتا ہے کہ غریب افراد کو ان کے گھر تک رسائی بھی نہیں رہتی پھر۔ان کو مجلسوں میں ملتے ہیں تو ان کی آنکھیں بدلی ہوئی ہوتی ہیں ، شرم محسوس کرتے ہیں کہ یہ جو شخص غریب سا دکھائی دیا ہے ہمارے سے اس کا کوئی گہرا خونی رشتہ ہے اور جیسا کہ میں نے بیان کیا بعض واقعات سے پتا چلتا ہے اور یہ ایسے واقعات ہیں جو محض فرضی نہیں بلکہ حقیقتا روز مرہ ہونے والے واقعات ہیں اور بعض اپنے تجربے میں میرے علم میں بھی ایسے آئے ہیں کہ بچہ امیر ہو گیا اور شادی بھی ایسی جگہ ہو گئی جو نخرے والی اور دنیا کی جدید تہذیب سے متاثر عورت تھی تو اس کے لئے یہ بات قابل شرم ہو گئی کہ میرا باپ میرے گھر میں رہے اور اس کے لئے پھر ذرا ہٹ کر کوارٹر بنا دیئے گئے اور اس کو ایسی حالت میں رکھا گیا کہ جب وہ لوگ آئیں تو ان کے سامنے نہ آئے ، بعض اپنی ماؤں سے شرمانے لگ جاتے ہیں بعض اپنے باپوں سے شرمانے لگ جاتے ہیں۔ایک دفعہ ایک ایسے ہی گھر میں ایک بچہ اپنی پرانی چیزیں ایک کمرے میں جمع کر رہا تھا پرانا