خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 806
خطبات طاہر جلد 13 806 خطبه جمعه فرموده 21 را کتوبر 1994ء یہ ہے کہ نُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ ان کا نوران کے آگے آگے بھاگتا ہے۔ان کے رستے ان پر روشن کرتا چلا جاتا ہے۔اور وہ بھی جو ان کے ساتھ ہوتے ہیں۔ان کے رستے بھی روشن ہوتے رہتے ہیں۔پس احمدیت کو اس زندہ نور کے طور پر قبول کریں اور زندہ نور کے طور پر اپنے دل و جان میں جگہ دیں یہاں تک کہ یہ پھوٹے ، آپ کی آنکھوں سے پھوٹے ، آپ کے چہروں سے ظاہر ہو، آپ کے کلام سے پھوٹنے لگے اور آپ کا رستہ اپنے لئے بھی روشن اور منور ہو جائے اور آپ دنیا کے لئے بھی ایسے راہنما بن جائیں کہ روشن رستوں پر ان کو ساتھ لے کر آگے بڑھیں۔اللہ تعالیٰ اس کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین) آخر پر میں جماعت ہائے احمد یہ امریکہ اور جماعت ہائے احمد یہ کینیڈا کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔بڑوں نے بھی اور نو جوانوں نے بھی اور چھوٹے بچوں نے بھی، مردوں نے بھی اور خواتین نے بھی بڑی محنت کی ہے اور قطعا تھکاوٹ کے آثار ظاہر نہیں ہونے دیئے۔ضرور تھکتے تو ہوں گے لیکن جب کسی سے پوچھا اس نے ہنستے ہوئے کہا کوئی تھکن نہیں ہے بالکل پرواہ نہ کریں۔جتنا چاہیں ٹھہریں ہم مسلسل محنت سے آپ کے موجود ہونے کے تقاضے پورے کرتے رہیں گے جس محبت اور اخلاص سے جماعت نے سلوک کیا ہے اس سے مجھے یقین ہے کہ یہ جو کمزوریاں ہیں یہ سطحی ہیں، گہری نہیں ہیں۔دل کی گہرائی میں وہ محبت ہے جو اللہ سے تعلق کے بغیر ہو ہی نہیں سکتی۔ور نہ اس زمانے میں، اس دنیا داری کے زمانے میں کون ہے جو اپنے آرام چھوڑ کر ، بڑے بڑے خرچ کر کے، دور دور کے سفر طے کر کے، بار بار وہاں پہنچے جہاں وہ شخص ہو جس کے ہاتھ پر اس نے بیعت کی ہو اور ایسی محبت کا اظہار دنیا کے پردے میں کہیں آپ کو دکھائی نہیں دے گا۔پس یہ بتاتا ہے کہ دل مخلص ہیں ، دل بچے ہیں اور اگر دل بچے ہیں تو وہ رخنے جو نظر آنے لگے ہیں وہ ابھی پوری طرح جڑ نہیں پکڑ سکے ، ان کو جڑ نہ پکڑنے دیں کیونکہ میں زمیندار ہوں میں جانتا ہوں کہ کتنی محنت سے کھیت تیار کئے گئے ہوں، اچھی فصلیں ہوں، اگر یہ پودا ایک دفعہ جڑ پکڑ جائے پھر وہ فصل رفتہ رفتہ خراب ہو جایا کرتی ہے۔تو جڑ پکڑنے سے پہلے اکھیڑ پھینکیں اور وہ اسی طرح ممکن ہے کہ اپنے نفس کے تجزئیے کی عادت ڈالیں اپنی نیتوں کا امتحان لیتے رہیں اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مثال دی ہے کہ پنوڑیا جس طرح پانوں کو الٹتا رہتا ہے تا کہ جہاں بھی کوئی داغ دکھائی دے اسے کتر کر