خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 803 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 803

خطبات طاہر جلد 13 803 خطبه جمعه فرموده 21 /اکتوبر 1994ء نے اپنی بھی اس غیر معاشرے میں حفاظت کرنی ہے اور اپنی اولاد کی بھی حفاظت کرنی ہے اور یہ وہ قدریں ہیں جن کو دنیا پہچانتی بھی ہے اور حقیقت میں انہی کی عزت کرتی ہے۔یہ وہم ہے آپ کا کہ آپ ان جیسے بننے کی کوشش کریں گے تو آپ معزز ہو جائیں گے اور اپنے جیسے رہیں گے تو یہ آپ کو حقارت سے دیکھیں گے۔گہری قدر اور عزت اعلیٰ اقدار کی ہوا کرتی ہے اور اگر آپ اعلیٰ اقدار کے حامل ہوں تو آپ کے کپڑے جیسے بھی ہوں، آپ پر دے کے قائل ہوں، جس طرح چاہیں الگ زندگی بسر کریں، آپ سوسائٹی میں ایک عزت پائیں گے لیکن سوسائٹی میں عزت پانے کے لئے آپ نے بھی وہی کام شروع کیا تو پھر وہی بات پیدا ہو جائے گی کہ خدا کی نظروں میں نہیں رہیں گے۔یہ میں محض ایک مثال کے طور پر بتا رہا ہوں آپ کی نظر کا رخ تبدیل کرنے کے لئے نہیں۔نظر کا رخ وہی ہے جو ایک ہی ہے اور وہ كلمہ لا إله الا اللہ میں ظاہر فرمایا گیا ہے، جو قبلے میں دکھایا گیا ہے کہ اللہ ہی کی طرف خیال رکھو۔اَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللهِ (البقره: 116) عجیب کلام ہے اور اس کے جواب میں پھر سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِی کی آواز مومن کے دل سے اٹھتی ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے جہاں کہیں بھی تم منہ پھیرو گے، جدھر بھی منہ اٹھاؤ گے وہیں خدا کا چہرہ دکھائی دے گا ، ہر وقت اس کی نظر میں ہو۔تو کیسا پاکیزہ جواب ہے جو اس الہی کلام کے اثر کو گہرائی سے قبول کرنے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دل سے اٹھا سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِی ( یہ روز کر مبارک تو آتا ہے اس میں ، لیکن عمداً چھوڑ رہا ہوں ) اصل مصرعے کی جان یہ ہے سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِی پاک ہے وہ ذات جو ہر حال میں مجھ پر نگاہ رکھتی ہے ہر حال میں مجھے دیکھتی رہتی ہے۔تو یہ عارضی باتیں، چند مشغلے کسی کا آنا اور چلے جانا ، اس کا یہ سمجھنا کہ دیکھو ان کی عورتیں الگ بیٹھی ہوئی تھیں ہمارے ساتھ نہیں جڑ کے بیٹھیں۔یہ معمولی حقیر باتیں ہیں۔ان لوگوں کی خاطر جنہوں نے آپ کا کچھ نہیں بنانا، آپ کا کچھ نہیں کرنا ، آپ خدا کی نظر میں گر جائیں اور احساس کمتری کا شکار ہو کر اپنی نظر میں خود حقیر ہو جائیں اگر آپ کو علم نہ بھی ہو تو عملاً ایک مومن کی نظر میں ایسا انسان حقیر ہو جاتا ہے۔یہ اچھا سودا نہیں ہے۔پس میں آپ کو سمجھاتا ہوں کہ اپنی قدروں کی حفاظت کریں اور جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے، اپنے آباؤ اجداد پر نگاہ رکھیں اکثر آپ میں سے ایسے ہیں جن کے آباؤ اجداد