خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 802
خطبات طاہر جلد 13 802 خطبه جمعه فرموده 21 را کتوبر 1994ء ساده مزاج آدمی ، نہ کپڑوں کا خیال، نہ اپنی شکل وصورت کا دھیان کہ کیا دکھائی دے رہا ہوں۔حالت یہ تھی کہ بعض دفعہ اپنے بیٹے مظفر کی شلوار پہن کر باہر نکل جایا کرتے تھے جو گھٹنوں تک آتی تھی بمشکل اور اسمبلی کے ممبر۔ایک ایسی حالت میں ایک دفعہ پنجاب اسمبلی میں گئے تو آگے پہریداروں نے روک دیا کہ ہم مان ہی نہیں سکتے کہ تم اسمبلی کے ممبر ہو۔انہوں نے کہا میں تو ہوں اب تم مانو نہ مانو۔اتنے میں کوئی معزز رکن اسمبلی جو بہت معروف تھا وہ آیا اور بڑا جھک کے چودھری صاحب کو سلام کیا، پہریدار کو کہا ایک طرف ہٹو یہ بہت معزز ممبر ہیں اسمبلی کے۔تو اسی مظفر کی شلوار میں اسمبلی میں چلے گئے اس لئے کہ اپنے نفس پر اعتماد تھا۔اپنے پہ جب اعتماد ہو اور اعلیٰ قدروں کے نتیجے میں اعتماد ہو تو دنیا کی نظروں کی کوئی بھی حقیقت نہیں رہتی۔ایک دفعہ چودھری صاحب سے کسی نے پوچھا کہ چودھری صاحب آپ کو جو حضرت مصلح موعود کبھی گورنر سے ملنے کے لئے بھیج دیتے تھے کبھی کمشنر سے کبھی اور حکومت کے اعلیٰ افسروں سے جواکثر انگریز ہی ہوا کرتے تھے تو آپ تو بڑے سادہ سے آدمی ہیں کس کس قسم کے کپڑوں میں ملبوس ہیں لوگ تو کہتے ہیں بڑا Shabby ہے تو آپ کو کبھی خیال نہیں آتا، کوئی جھجک نہیں آتی کہ آپ کس سے ملنے جارہے ہیں اور وہاں جا کر آپ کو کیا محسوس ہوتا ہے۔چودھری صاحب نے بڑی سادگی سے جواب دیا کہ تم کیا بات کر رہے ہو مجھے تو ایک چیز ہے جو ہمیشہ یا درہتی ہے اور وہی میری حفاظت کرتی ہے۔جب میں لوگوں سے ملنے جاتا ہوں تو میں کہتا ہوں یہ دنیا کی ایک حکومت کے نمائندہ ہیں اور میں خدا کا نمائندہ ہوں اور خدا کے خلیفہ کا نمائندہ ہوں۔اس لئے میرے سامنے تو انہوں نے پنجابی میں کہا کہ ” مینوں تے اؤں لگدا جی ویں سامنے چڑی دا بوٹ بیٹھا ہویا اے۔چڑی کے بوٹ کی مثال بڑی پیاری ہے وہ چڑی کا جو بچہ نیا نیا انڈوں سے نکلتا ہے اس پر پر بھی نہیں ہوتے ، وہ چھیچھڑا سا سرخ رنگ کا بالکل بے حیثیت چیز۔اگر چڑیا جان ڈال کے اس کی حفاظت نہ کرے تو وہ کچھ بھی نہیں رہتا وہ ایک دو دن بھی اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا تو وہ مثال دی کہ ”مینوں تے اؤں لگدا جی ویں سامنے چڑی دا بوٹ بیٹھا ہویا اے۔میں تو رحم سے اس کو دیکھ رہا ہوتا ہوں۔مجھے کہاں یہ خیال پیدا ہو گا کہ کوئی بڑا آدمی مجھ پر حاوی ہو چکا ہے۔پس یہ خدا کی عظمت کا احساس جب دل میں جاگزیں ہو جائے ، اپنی قدروں پر فخر جو انکسار پیدا کرتا ہے اور تکبر پیدا نہیں کرتا۔یہ وہ ہتھیار ہیں جن کے ساتھ ہم