خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 779 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 779

خطبات طاہر جلد 13 779 خطبه جمعه فرموده 14 اکتوبر 1994ء میں پیچھے رہ چکے ہیں مثلاً تین ایسے پروگرام ہیں جن میں لائیو اسی وقت دکھانا، یا اسی دن کا لائیو پروگرام شام کو دکھا نا مناسب نہیں ہوگا۔ایک قرآن کریم کی کلاس شروع ہوئی ہوئی ہے اور میری یہ خواہش ہے کہ اب میں خود ہی تمام دنیا کے احمدیوں کو قرآن کریم کا ترجمہ سکھاؤں۔اور اس ترجمہ سکھانے کے ساتھ ساتھ جہاں جہاں تلفظ کی درستی کرنی ضروری ہے یعنی عام طور پر جو غلطیاں پائی جاتی ہیں ان کی طرف توجہ دلانا وہ بھی خود کروں اور اس کے علاوہ عربی گرائمر سے بھی کچھ شناسائی کروا تا چلا جاؤں کیونکہ جو تر جمہ آپ دوسری زبانوں میں پڑھتے ہیں وہ کئی پہلوؤں سے بالکل ناقص اور خام ہے۔یعنی ایک مضمون تو آپ تک پہنچا دیتا ہے لیکن قرآن کریم کے اصل الفاظ کو سمجھنا اور کس طرح وہ بات بیان ہو رہی ہے وہ اس کا براہ راست علم پانا یہ ترجمہ پڑھنے کے مقابل میں زمین آسمان کی سی مختلف چیز ہے یعنی اتنی مختلف ہے کہ گویا زمین آسمان کا فرق ہے۔اس لئے لازم ہے کہ آپ کو پتا چلے کہ قرآن کریم کا محاورہ کیا ہے کیوں یہ ترجمہ کیا جاتا ہے اور کیسے اور تراجم ممکن ہیں۔اور پھر یہ بھی علم ہونا چاہئے جماعت کو کہ جماعت احمدیہ نے جو عام سنی یا شیعہ تراجم سے اختلاف کیا ہے تو اس کی بنا کیا ہے۔کیا محض اپنے نفس کی خواہش کے مطابق کیا ہے یا قطعی دلائل کے ساتھ جن کے شواہد قرآن کریم میں ملتے ہیں، احادیث میں ملتے ہیں، عربی گرائمر میں ملتے ہیں یہ نیا ترجمہ اختیار کیا گیا ہے۔نیا اس پہلو سے کہ ازمنہ وسطیٰ میں جو تر جمہ کیا گیا اس زمانے کے علم کے لحاظ سے ان بزرگوں اور علماء نے جس حد تک ان کو سمجھ آئی وہ ترجمہ کر دیا مگر قرآن کریم تو ہر زمانے کی کتاب ہے اور بعض آیات ایک زمانے میں ایک مفہوم پیش کر سکتی ہیں اور اس مفہوم کو اس زمانے میں سمجھنا کافی ہے لیکن جب زمانہ آگے گزرتا ہے تو قطعی طور پر عربی گرائمر کی رو سے ان آیات سے ایک اور مفہوم اخذ کرناممکن ہو جاتا ہے اور بعض دفعہ ضروری ہو جاتا ہے کیونکہ زمانہ اس بات کا شاہد بن جاتا ہے کہ قرآن کریم نے جو بات آج سے چودہ سو سال پہلے بیان فرمائی تھی وہ پوری ہو چکی ہے۔پس ایسی باتوں میں بھی اور بعض ایسے امور میں بھی جہاں قرآن کریم کا ترجمہ کرنے والوں نے اس حد تک سادگی سے کام لیا ہے کہ یہ نہیں دیکھا کہ یہ ترجمہ قرآن کریم کے شایان شان بھی ہے کہ نہیں، انہوں نے ایسا ترجمہ کیا جس سے مستشرقین اور دشمنان اسلام کو خوب پھبتیاں کسنے کا موقع ملا اور اعترض کرنے کا موقع ملا۔لیکن جماعت احمدیہ نے جو ترجمے کئے ہیں ان میں یہ پوری احتیاط ہے کہ