خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 710 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 710

خطبات طاہر جلد 13 710 خطبہ جمعہ فرمودہ 23 /ستمبر 1994ء ہے جو جڑ کو لگ جائے تو پھل ہمیشہ داغ دار نکلتا ہے بلکہ بسا اوقات ایسے درخت بھی مرجاتے ہیں جن میں جڑوں میں کیڑے لگ جائیں۔جڑ کی بیماری کی اصلاح سب سے مشکل کام ہے اور بسا اوقات جب جڑ میں بیماریاں لگیں تو زمیندار کی کچھ پیش نہیں جاتی ، ایسے پودے بالآ خر ضرور مرجھا جایا کرتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اس مضمون پر روشنی ڈالتے ہوئے ہر کام کے آغاز سے پہلے نیتوں پر غور کا ارشاد فرمایا ہے انما الاعمال بالنیات ( بخاری کتاب الایمان حدیث نمبر : 10) تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔نیتیں جو ابھی دل کی گہرائیوں میں یا ذہن کے پردوں کے پیچھے کروٹیں لے رہی ہوتی ہیں جن پہ کچھ محنت صرف نہیں ہوتی محض ایک خیال کی حیثیت سے پیدا ہوتی ہیں۔ان میں ایسی طاقت ہے کہ بڑی سے بڑی اعمال کی عمارت کو بھی وہ منہدم کرنے میں یا بالآخر اپنے مقاصد میں نا کام کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔بدنیتی پر انحصار ہو تو تمام دنیا بھی اس عمل میں اس نیت کی محمد ہو جائے ، اس نیت پر کار فرما ہونے کے لئے کوشش کرے تو بدی کا پھل بد ہی لگے گا۔اس لئے نیتوں پر ہر کام کا سکھانا، حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا ایک بہت بڑا احسان ہے اور مومن کو ہمیشہ متنبہ فرما دیا ہے کہ تمہاری ساری محنت ضائع جائے گی اگر نیت سے تم باخبر نہ ہوئے اور نیت کی اچھی طرح چھان بین کر کے تسلی نہ کر لی کہ تمہاری نیت صاف اور پاک ہے۔پس اس پہلو سے بسا اوقات نیکی کے رستے سے بھی بد نیتیں داخل ہو جایا کرتی ہیں۔بظاہر نیک کام ہے لیکن نیکی کے ساتھ جو خود نمائی کا پہلو بھی آجاتا ہے وہ انسان کی نیت میں داخل ہو جائے تو سارا عمل بے کار اور بعض دفعہ بے ثمر اور بعض دفعہ تلخ پھل لانے کا موجب بن جاتا ہے۔پس ہمیں عمومی طور پر اپنی نیتوں پر نظر رکھنی چاہئے اور جہاں بھی یہ رخنہ پیدا ہو یا یہ گمان پیدا ہو یا یہ اندیشہ ہو کہ نیتوں میں کوئی دوسری چیز داخل ہو رہی ہے ایسے رستے کو بند کرنا وقت کے اوپر بہت ہی ضروری ہے اور ایسے رستوں پر چلنے سے گریز بہت لازم ہے۔پس اگر چند ممالک کے نام یا چند جماعتوں کے نام نہ بھی سنائے جائیں تو کوئی ایسا نقصان نہیں ہے لیکن اگر سنائے جائیں اور وہ ان کی نیتوں میں گند ڈالنے کا موجب بن جائیں، آج نہیں تو کل رخنہ پیدا کر دیں تو یہ بہت بڑا نقصان ہے اس لئے جن ممالک کے نام میں پڑھ کر نہیں سنا رہا ان کو سمجھا رہا ہوں کہ اس پر دل گرفتہ نہ ہوں اس پر غم اور فکر کا اظہار نہ کریں۔ان کے نام نہ سنانا بہتوں کی اصلاح کا موجب بن جائے گا اور خود ان کے لئے بھی