خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 667
خطبات طاہر جلد 13 667 خطبہ جمعہ فرمودہ 2 رستمبر 1994ء وہ اپنے آپ کو ضرور بھسم کر جاتی ہے۔پس ایسے لوگ ہر روحانی فیض اور برکت سے محروم رہ جاتے ہیں۔پس اگر اپنے بھائی کی کوئی اچھی چیز آپ کو معلوم ہوتو وہ موقع ہے اپنے دل کو ٹول کر اپنی تشخیص کرنے کا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو نصیحت فرمائی ہے وہ اسی حدیث نبوی سے تعلق رکھتی ہے کہ ولا تباغضوا ایک دوسرے سے بغض کا معاملہ نہ کیا کر و یعنی وہ تم سے بغض کر رہا ہو اور تم اس سے بغض کر رہے ہو ولا تحاسدوا اور ایک دوسرے سے حسد کا معاملہ نہ کیا کرو۔جب تم حسد کرو گے تو پھر دوسرے تم سے حسد کریں گے۔ساری سوسائٹی میں ایک دوسرے سے بغض، ایک دوسرے سے حسد کا تعلق جاری ہو جاتا ہے یا بے تعلقی ہو جاتی ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کو کوڑھ فرما کر اس کی پہچان بتائی کہ تمہیں کسی طرف سے خوشی کی خبر ملے تو اپنے دل میں دیکھو کہ تمہیں کیا ہوا ہے۔اگر چٹکی کاٹی گئی ہے، اگر تکلیف ہوئی ہے، بعض دفعہ لگتا ہے خنجر گھونپ دیا گیا ہے تو اسی حد تک تم بیمار ہو جتنی زیادہ تکلیف ، اتنا کوڑھ آگے بڑھ چکا ہے اور جتنی خوشی ہوگی اتنا ہی تم ایمان کے رستے پر آگے بڑھنے والے ہو۔اگر بھائی کی اچھی خبر سے تمہارا دل خوش ہو جاتا ہے تم کہو الحمد للہ فلاں کو اللہ نے یہ نعمت عطا فرمائی تو یا درکھو کہ تم ایمان کے رستے کے مسافروں میں سب سے آگے بڑھنے والے مسافر ہو اور کم سے کم اگر تکلیف نہیں ہوتی تو یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ بہت اچھی صحت نہیں، مگر بیمار بھی نہیں ہے۔مگر ہمارے معاشرے میں بیماریاں زیادہ بڑھ رہی ہیں اور جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا مشرقی ملکوں میں تو بہت ہی زیادہ تباغض اور تحاسد پایا جاتا ہے لیکن مغربی قوموں میں بھی کم نہیں ہے۔یہ بیماری ہے جس میں یہ بھی ہم سے خوب مقابلہ کرتے ہیں۔یہ جتنے آپ نے دیکھے ہوں گے سر منڈائے ہوئے بعض پھرنے والے، وہ اچھا گھر دیکھتے ہیں پتھر مار مار کے اس کے شیشے توڑ دیتے ہیں۔موٹر دیکھتے ہیں تو اس کے اوپر ڈنٹ ڈال دیتے ہیں، اس کے شیشے توڑ کے اپنا کوئی بھی فائدہ نہیں مگر دوسرے کا نقصان کر کے راضی ہوتے ہیں۔یہ کوڑھ ہے، جو وہ لوگ جو محروم ہیں، بعض خوبیوں سے وہ اپنے لئے لعنتیں لے لیتے ہیں ، خوبیاں تو پھر بھی حاصل نہیں کر سکتے۔کسی کے گھر کے شیشے توڑنے سے ان کے گھر کے شیشے تو نہیں لگ جائیں گے، کسی کی کارکو نقصان پہنچا کر ان کو تو کا رنصیب نہیں ہوگی مگر وہ تو چونکہ بے دین لوگ ہیں۔ان کو علم نہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔مومن اگر مومن کہلا کر ایسی باتیں کرے