خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 665 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 665

خطبات طاہر جلد 13 665 خطبہ جمعہ فرمودہ 2 رستمبر 1994ء جب غلط باتیں بیان کرے گا اور گواہی موجود نہیں ہوگی تو جو طبعی منطقی نتیجہ نکلنا چاہئے۔آنحضرت ملالا لالی اپنی فطری منطق سے وہی نتیجہ نکالیں گے جو نکلنا چاہئے اور اس کے نتیجے میں اگر اسے کوئی ایسی چیز حاصل ہو جائے جو اس کا حق نہیں ہے۔تو فرمایا وہ مجھ سے آگ لے رہا ہوگا اور وہ زائد چیز جو مجھ سے لے گا وہ دولت جو مجھ سے حاصل کرے گا قیامت کے دن وہ سانپ بن کر اس کی گردن سے لپٹ جائے گی۔آنحضرت ﷺ سے جب دونوں جھگڑے والوں نے یہ بات سنی تو دونوں کی روتے روتے چھینیں نکل گئیں اور ان میں سے ایک نے عرض کیا یا رسول اللہ میری ساری جائیداد لے کر اس کو دے دیں مگر میں یہ خطرہ مول نہیں لے سکتا کہ کسی غلطی سے آپ کا فیصلہ میرے حق میں ہو جائے جو میر احق نہ ہو۔انہوں نے کہا میرے بھائی کو دے دیں۔یہ سن کر آپ نے فرمایا تم اس پر آمادہ ہو تو یوں کرو کہ جائیداد تقسیم کرو، قرعہ اندازی کرو، جس کے حصہ میں جو قرعہ نکلے اسے وہ خوشی سے لے لے اور اس کا طریق یہ ہے کہ ایک شخص جائیداد کے اندازے کرتا ہے، اسے تقسیم کرتا ہے، اپنی طرف سے انصاف کے ساتھ اور دوسرے کو پہلے قرعہ اٹھانے کا حق ملتا ہے۔یا وہ فیصلہ کرنے کا حق ملتا ہے کہ میں ان میں سے جو مرضی چن لوں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر اتنے تم محتاط ہو گئے ہو اور تقویٰ پر قائم رہنا چاہتے ہو تو زیادہ اور کم کی بحث چھوڑ دو، برابر تقسیم کر لو (ابوداؤد کتاب القضاء حدیث : 3112) اور اس کا طریق یہ بیان کیا جیسا کہ میں نے آپ کے سامنے کھولا ہے۔چنانچہ اسی کے مطابق پھر ان دونوں کا فیصلہ ہوا۔حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے بیان فرمایا۔ایک دوسرے سے حسد نہ کرو۔ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کے لئے بڑھ چڑھ کر بھاؤ نہ بڑھاؤ۔ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو۔ایک دوسرے سے پیٹھ نہ موڑو۔ایک دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرو بلکہ اللہ تعالیٰ کے بندے اور آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔مسلمان اپنے بھائی پر ظلم نہیں کرتا اس کی تحقیر نہیں کرتا اس کو شرمندہ یا رسوا نہیں کرتا۔آپ نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا تقویٰ یہاں ہے یہ الفاظ آپ نے تین دفعہ دہرائے۔پھر فرمایا انسان کی بد بختی کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقارت کی نظر سے دیکھے۔ہر مسلمان کا خون، مال، عزت، آبرو دوسرے مسلمان پر حرام اور اس کے لئے واجب الاحترام ہے۔(مسلم کتاب البر والصلۃ حدیث : 4650)