خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 664
خطبات طاہر جلد 13 664 خطبه جمعه فرموده 2 ستمبر 1994ء ور نہ مایه ( کلف) ضرور لگاتے ہیں۔یہ تو کوئی انصاف نہیں، کوئی شرافت نہیں ، کوئی عقل کی بات نہیں ہے۔آنحضرت ﷺ نے چودہ سو سال پہلے جو نصیحتیں کیں آج تک آپ کو علم نہیں کہ وہ کیا نصیحتیں ہیں۔آج بھی آپ کو پتا نہیں کہ کن خطرات سے آپ کو آگاہ فرمایا تھا۔کن گڑھوں میں گرنے سے بچنے کی آپ نے تلقین فرمائی تھی لیکن آنکھیں بند کر کے ایسا کرتے چلے جاتے ہیں۔دودھ دینے والے جانوروں کے دودھ روک لیتے ہیں، کئی کئی دن اور اتنا بیچاروں کو پھر پانی پلاتے ہیں کہ وہ دودھ بھی پتلا ہوکر بڑھتا ہے اور کئی دن کا رکا ہوا جس کو دوہا نہ جائے اس کی وجہ سے وہ تھن خوب بھر جاتے ہیں۔سودا کرتے ہیں، خرید کر ایک بے چارہ زمین دارلے کے گھر آتا ہے تو پہلے دن ہمیں سیر دوسرے دن ڈیڑھ پاؤ کوئی نسبت ہی نہیں رہتی۔تو یہ کوئی شرافت نہیں ہے۔قومی کردار بڑا ذلیل ہو جاتا ہے۔ہر شخص کے لئے مصیبت ہے۔اس لئے خلق محمدی میں ہماری نجات ہے، اس کو اپنا ئیں۔پھر جتنا بھی آپ کا حق ہو آپ کو ملے گا اور اسی میں برکت پڑے گی کیونکہ آنحضرت ﷺ نے برکت کا بھی وعدہ فرمایا ہے۔ایک حدیث مسند احمد سے اور ابو داؤد دونوں سے لی گئی ہے۔حضرت ام سلمہ بیان کرتی ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے پاس دو آدمی آئے جن میں وراثت کی ملکیت کے بارے میں جھگڑا تھا اور معاملہ پرانا ہو جانے کی وجہ سے ثبوت کسی کے پاس نہ تھا یعنی وراثت کا جھگڑا تھا۔دیر اتنی ہو چکی تھی کہ کوئی اس وقت کے موقع کے گواہ بھی ایسے نہیں تھے، کوئی ثبوت نہیں پیش کر سکتا تھا لیکن مطالبے میں دونوں کی شدت تھی۔آنحضرت ﷺ نے ان کی بات سن کر فرمایا میں انسان ہوں اور ہوسکتا ہے کہ تم میں سے کوئی زیادہ لستان ہو اور خوب چرب زبانی سے کام لے کر اور بڑھ بڑھ کر باتیں کرے اور اپنی زبان کی ہوشیاری سے مجھ پر اثر انداز ہو جائے۔فرمایا کوئی عمدہ انداز اور لہجے میں بیان کر سکتا ہو اور میں اس کی باتوں سے متاثر ہو کر کوئی رائے قائم کرلوں اور اس کے حق میں فیصلہ دے دوں۔آخر انسان ہوں اور روز مرہ کے معاملات میں اس قسم کی بشری غلطی سرزد ہو سکتی ہے لیکن ساتھ فرمایا ایسی صورت میں اسے اس فیصلہ سے فائدہ نہیں اٹھانا چاہئے جس کے حق میں ناجائز فیصلہ ہو جائے اور اپنے بھائی کا حق نہیں لینا چاہئے کیونکہ اس کے لئے وہ ایک آگ کا ٹکڑا ہے جو میں اسے دلا رہا ہوں۔یعنی آنحضرت سے تو آگ کے ٹکڑے کی کوئی دور کی بھی توقع نہیں کی جاسکتی مگر ایک دھوکے باز