خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 641
خطبات طاہر جلد 13 641 خطبه جمعه فرموده 26 راگست 1994ء انسان کی ذہنی اور قلبی کیفیت کے مطابق نصیحت کرنا یہ بھی ایک اہم فن ہے۔جو نصیحت کے کارآمد ہونے میں ایک بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ایک انسان کبھی کسی موڈ میں ہوتا ہے، کبھی کسی موڈ میں ہوتا ہے۔اس کے مزاج بدلتے رہتے ہیں اس کی حالتیں بدلتی رہتی ہیں اگر غلط حالت کے وقت آپ کوئی بات کریں تو وہ اثر انداز نہیں ہوگی اس لئے موقع اور محل اور موسم کے مطابق بات کرنا بھی صحیح نصیحت کا ایک لازمی جز ہے جس کے بغیر نصیحت صحیح معنوں میں فائدہ نہیں دیتی یا پھل نہیں لاسکتی۔دیکھیں اگر آپ گندم کے بونے کے موسم میں خریف کی فصلیں بونے کی کوشش کریں تو اس کا کچھ بھی فائدہ نہیں ہوگا۔جو بیع کی فصلوں کا وقت ہے اس میں ربیع کی فصلیں ہی کام آتی ہیں جو خریف کی فصل کی کاشت کا وقت ہے اس میں خریف کی فصلیں ہی کاشت کی جاتی ہیں حالانکہ زمین وہی ہے اور بظاہر موسم بھی ویسا ہی معلوم ہوتا ہے اب دیکھیں سردیوں سے جب آپ گرمیوں میں داخل ہوتے ہیں تو بظاہر موسم تو ویسا ہی ہے جیسا جب گرمیوں سے سردیوں میں داخل ہوتے ہیں۔فضا ویسی ہی درمیانہ درجے کی خنک یا گرم ویسے ہی اس کے اندر خاص قسم کی اثر انداز باتیں پائی جاتی ہیں۔وہ کیا ہیں؟ ہم ان کی تفصیل نہیں بیان کر سکتے۔مگر گرمی سے سردی میں داخل ہور ہے ہوں یا سردی سے گرمی میں داخل ہو رہے ہوں فضا کی لہریں تقریبا ویسے ہی دل پر اثر انداز ہو رہی ہوتی ہیں اور ٹمپریچر اگر دیکھا جائے تھرما میٹر کے ذریعے تو اس میں بھی کم و بیش ویسے ہی ٹمپریچر یا درجہ حرارت نظر آئیں گے جیسے چھ مہینے پہلے کے موسم میں تھے غرضیکہ انسان اپنے معائنے کے ذریعے کوئی فرق محسوس نہیں کرتا۔لیکن اس کے باوجود کچھ فرق ہیں اور بیج ان کو پہچانتے ہیں اور زمین ان کو پہچانتی ہے اور وہ لوگ جو تجربے سے جانتے ہیں وہ اس بحث میں نہیں پڑتے کہ یہ فرق کیا ہے ان کو یہ پتا ہے کہ ربیع کے موسم میں ربیع کی فصلیں کاشت کرنی ہیں۔ان کو پتا ہے کہ خریف کے موسم میں خریف کی فصلیں کاشت کرنی ہیں۔پس اسی طرح انسانی طبیعتوں کا حال ہے۔بعض خاص اوقات قوموں پر آتے ہیں جب خاص قسم کی نصیحتیں ان پر اثر انداز ہوتی ہیں۔بعض خاص حالات افراد پر آتے ہیں جب خاص قسم کی نصیحتیں ان پر اثر انداز ہوتی ہیں اور یہ گہرے مطالعہ کا مضمون ہے لیکن اس کے ساتھ ہی انسانی فطرت میں خدا تعالیٰ نے یہ ملکہ بھی ودیعت کر دیا ہے کہ فلسفیاتی لحاظ سے آپ اس مضمون کی باریکی کو سمجھیں یا نہ سمجھیں مگر یہ جان لیتے ہیں کہ کوئی کس موڈ