خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 637 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 637

خطبات طاہر جلد 13 637 خطبه جمعه فرموده 26 راگست 1994ء بات کرے، ادب سے گفتگو کرے اور کوشش کرے کہ قرآن کریم نے جن خوش نصیبوں کا ذکر فرمایا ہے کہ وَ أُولبِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ وہ بھی انہیں میں داخل ہو جائے اور خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ اس کے حق میں پورا ہو کہ وہ کامیاب ہونے والا ہے۔پس جماعت کو کامیابی کے لئے ان تمام نصائح پر عمل کرنا ضروری ہے جو قرآن کریم نے کامیابی کے لئے شرط قرار دی ہیں۔آج کل خصوصیت سے اس لئے اس کی ضرورت ہے کہ جماعت جرمنی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہتر تیزی سے نشو ونما پا رہی ہے اور بڑی کثرت سے غیر تو میں جماعت میں داخل ہو رہی ہیں ان کو نصیحت کرنا ہے، ان کو نیک کاموں کی طرف بلانا ہے ، ان کو پیار اور محبت کے ساتھ اسلامی آداب صلى الله سکھانے ہیں۔پس نصیحت کے انداز اگر آپ آنحضرت ﷺ سے نہیں سیکھیں گے تو پھر آپ نصیحت کا حق ادا کرنے کے اہل نہیں ہیں اور جیسا کہ میں نے ہتھیاروں کی مثال دی تھی جب تک اپنے گھر میں اپنے ماحول میں ان ہتھیاروں کو استعمال نہ کرنا سیکھیں گے اس وقت تک عادتا آپ میں نصیحت کرنے کا ملکہ پیدا نہیں ہو سکتا۔آنحضور ﷺ اپنے قرب و جوار میں ہی نہیں، اپنے گھر میں نصیحت کا آغاز فرمایا کرتے تھے، اپنے بچوں سے نصیحت کا آغاز فرماتے تھے، اپنے اقرباء سے نصیحت کا آغاز فرماتے تھے اور اس طرح آپ کی فطرت ثانیہ نصیحت کرنا تھا اور وہ نصیحت جواللہ ہوتی تھی وہ گہرا اثر کرتی تھی۔پس آپ نے بھی آنحضرت ﷺ کے اسلوب اپنا کر دنیا میں پاک تبدیلیاں پیدا کرنی ہیں اس لئے نصیحت کو ضرور اپنائیں۔جماعت جرمنی میں خصوصیت سے اس لئے بھی ضرورت ہے کہ بہت سے ایسے احباب اور خواتین اور بچے مختلف ملکوں سے یہاں آئے ہیں جن کا وہاں اخلاقی معیار بہت بلند نہیں تھا، جن کا روز مرہ گفتگو کا طریقہ بھی کرخت تھا اور ان کی گفتگو میں ملائمت نہیں پائی جاتی تھی۔یہ ان کے معاشرے کا حصہ تھا یہاں آنے کے بعد یہی عادتیں اگر ان کے اندر جاری رہیں تو وہ نقصان پہنچانے والی ہیں۔ان کے لئے بھی نقصان کا موجب ہیں اور جماعت کے لئے بھی نقصان کا موجب ہیں۔آنے والے آپ کی طرف توقعات کی نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں ایسی تو قعات جو بہت بلند ہیں۔پس آپ اپنے اندر، اپنے ماحول میں، اپنے گھر میں نصیحت کو رواج دیں اس کثرت کے ساتھ نیک باتوں کی طرف بلائیں اس کثرت کے ساتھ بُری باتوں سے روکیں کہ آپ کا اپنا معاشرہ پہلے سے بڑھ کر با اخلاق اور با ادب