خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 634
خطبات طاہر جلد 13 634 خطبه جمعه فرمود و 26 اگست 1994ء بات مومن کی گم شدہ اونٹنی کی طرح ہے۔( ترمذی کتاب العلم حدیث نمبر: 2611) گمشدہ اونٹنی کہاں سے ہاتھ آتی ہے، کون اسے پہنچاتا ہے، یہ نہیں دیکھا جاتا بلکہ وہ حکمت کی بات کو اپنی بات سمجھتا ہے۔پس جن لوگوں کو نصیحت کی جاتی ہے ان کو نصیحت کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرنا چاہئے۔یہ دیکھنا چاہئے کہ نصیحت اچھی ہے یابُری ہے اگر بُری ہے تو اس سے کنارہ کشی ضروری ہے اگر اچھی ہے تو جوابا طعنہ دینا حسن خلق نہیں ہے بلکہ سوسائٹی سے رفتہ رفتہ نصیحت کی قدروں کو اڑا دینے اور باطل کر دینے کے مترادف ہو جاتا ہے۔جن سوسائٹیوں میں ناصحین کو طعنے ملتے ہیں ان سوسائٹیوں سے رفتہ رفتہ امر بالخیر اور نہی عن المنکر کا رواج ہی اٹھ جاتا ہے۔پس سننے والے کے بھی کچھ تقاضے ہیں اور ان کو یا درکھنا چاہئے کہ نصیحت اگر اچھی بات پر مشتمل ہے تو اس نصیحت کو طعن و تشنیع میں اڑانے سے نہ ان کو فائدہ پہنچے گا نہ سوسائٹی کو کچھ فائدہ پہنچے گا بلکہ ان کی ایک نفسانیت ہے جو اور زیادہ موٹی ہو جائے گی، ان کی انانیت ہے جو اور بھی زیادہ پہلے سے بڑھ کر سرکشی کرنے لگے گی۔پس عجز کا مقام سب سے اچھا مقام ہے۔عجز کی راہیں سب سے اچھی راہیں ہیں۔پس نصیحت کرنے والا اگر آپ کی نظر میں بعض ان خوبیوں سے عاری ہو جو وہ آپ میں دیکھنی چاہتا ہے تب بھی شکریہ کے ساتھ ان باتوں کو قبول کریں کیونکہ اس نے باتیں اچھی کہی ہیں جو آپ کے فائدے کی ہیں اور اس وہم کو دل سے نکال دیں کہ نصیحت کرنے والا خود اپنے آپ کو نصیحت نہیں کرتا۔میں اس بات کا گواہ ہوں ہزار ہا احمدی مجھے خطوں میں یہ بات لکھتے ہیں کہ ہم فلاں نیکی کی بات کہنے پر مجبور ہیں۔اپنے بچوں میں بھی اچھی بات دیکھنا چاہتے ہیں مگر خود کمزوریوں میں ملوث ہیں خدا کے حضور گریہ وزاری کرتے ہیں، روتے ہیں اور شرمندہ ہوتے ہیں لیکن اپنی ذات میں ہم میں یہ طاقت نہیں کہ ان کمزوریوں سے الگ ہو سکیں۔پس آپ بھی دعاؤں کے ذریعہ ہماری مدد کریں۔پس ناصح کا ایک چہرہ ایسا ہے جو دنیا کو دکھائی دے رہا ہے۔ایک چہرہ ایسا ہے جو وہ خود اپنی ذات میں دیکھ رہا ہے اور وہ چہرہ جو ہے بسا اوقات عرق ندامت میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے، بسا اوقات اپنی ذات میں شرمندگی محسوس کر رہا ہوتا ہے۔پس اس کا معاملہ خدا پر چھوڑ دیں اور حق یہ ہے کہ اس کو اچھا جواب دیں اور اس کے لئے دعا کریں۔یہی وہ حسن محمدی ہے جس نے دنیا کو فتح کرنا ہے۔یہی خلق محمدی ﷺ ہے جس کی آج جماعت احمد یہ علمبردار بنائی گئی ہے۔پس نصیحت کے اسلوب اور