خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 633
خطبات طاہر جلد 13 633 خطبه جمعه فرموده 26 اگست 1994 ء نصیحت کرتا ہے۔ہوسکتا ہے کہ وہ ان بعض خوبیوں سے عاری ہوں یا اس کے قرب وجوار میں اس کے دوست ، عزیزان خوبیوں سے عاری ہوں جواباً اس پر یہ حملہ کرنا کہ تم اپنی شکل تو دیکھو، اپنا حال تو دیکھو ہمیں جس طرف بلاتے ہو اپنے بچوں کو کیوں ٹھیک نہیں کرتے یہ بھی درست اسلامی طریق نہیں ہے بلکہ ایک نہایت ہی ناپاک رد عمل ہے، ایک نا پاک رویہ ہے جس کے نتیجے میں سوسائٹی میں نفرتوں کے زہر گھولے جاتے ہیں اور نصیحتیں بریکار جاتی ہیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ یہ نصیحت کا ایک بہت ہی نازک مرحلہ ہے جبکہ نصیحت کرنے والا اپنے فرض کی وجہ سے مجبور ہو، ایسے مقام پر مامور ہو کہ اس کا کام ہے کہ وہ نصیحت کرے۔ایسے موقع پر دیکھنے والا شاید یہ خیال کرتا ہو کہ اس نے اپنے نفس کو بھلا دیا ہے اور دوسرے کو نصیحت کر رہا ہے مگر میں جہاں تک انسانی نفسیات کو سمجھتا ہوں اس کا یہ خیال درست نہیں ہے کیونکہ بسا اوقات ایسے نصیحت کرنے والے اپنے دل میں خود ہی گھلتے ہیں اور غم کھاتے ہیں اور دعائیں کرتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ خدا ہماری کمزوریوں کو دور فرمائے تا کہ ہم لوگوں کی جن کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ کمزوریاں ہماری ذات سے بھی بالکل کلیۂ الگ ہو کر ہمارے وجود کو پاک اور صاف چھوڑ جائیں۔ایسے ماں باپ ہیں جو اپنے بچوں کو نصیحت کرتے ہیں ان میں بھی کمزوریاں پائی جاتی ہیں۔بچوں میں بعض دفعہ وہ وہ خوبیاں دیکھنا چاہتے ہیں جو ان کی ذات میں نہیں ہیں۔بچوں میں سے وہ کمزوریاں دور کرنا چاہتے ہیں جو بعض دفعہ ان کے اندر بھی پائی جاتی ہیں تو اگر اس طریق کو بچے اپنا لیں اور بات بات پر ماں باپ کے سامنے زبانیں کھولیں اور کہیں کہ تم میں بھی یہ فلاں بات ہے تم میں بھی یہ فلاں بات ہے تو ساری دنیا کا نظام درہم برہم ہو جائے اور کسی کو اپنے گھر میں بھی تربیت کی توفیق نہ ملے۔پس تربیت کے ساتھ کچھ شرافت کے تقاضے وابستہ ہیں اور وہ شرافت ہے جو تربیت کو فائدہ پہنچاتی ہے اور تربیت کو تقویت دیتی ہے۔جس کو نصیحت کی جا رہی ہے اس کی شرافت کا تقاضا ہے کہ نصیحت کرنے والے کی کمزوریوں سے چشم پوشی کرتے ہوئے یہ دیکھے کہ بات سچی ہے یا نہیں ہے اگر بات سچی ہے تو وہ موقع طعنہ دینے کا نہیں۔بات سچی ہے تو کسی اور وقت اس کو اور رنگ میں سمجھایا جائے کہ تم میں یہ کمزوری پائی جاتی ہے تم اسے دور کرنے کی کوشش کرو۔پس آنحضرت ﷺ نے نصیحت کے مضمون میں ایک بنیادی بات ایسی فرما دی ہے جس کے نتیجے میں ہم اپنے نصیحت کے کردار کو مزید صیقل کر سکتے ہیں اور چمکا سکتے ہیں۔آپ نے فرمایا حکمت کی