خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 605 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 605

خطبات طاہر جلد 13 605 خطبہ جمعہ فرمودہ 12 /اگست 1994ء کے زمانے میں یہودی بھی مسلمانوں کے پڑوسی ہوا کرتے تھے اور کئی ایسے مقدمات ہیں جن میں ایک پڑوسی یہودی کی طرف سے کوئی شکایت پیدا ہوئی یا برعکس صورت پیدا ہوئی ہے۔تو پڑوس میں تو ہندو بھی بستے ہیں مسلمان بھی ، یہودی بھی ہر قسم کے لوگ ہیں۔فرمایا اپنے پڑوسی کے ساتھ یہ نہیں کہ ہمسائیگی کے حق ادا کرو۔اَحْسِنُ مُجَاوَرَةَ مَنْ جَاوَرَکَ ایسی عمدہ ہمسائیگی کر لو کہ بہت ہی خوب صورت ہو اعلیٰ درجہ کی ہمسائیگی ہو۔اگر تم ایسا کرو گے تو تم مسلم بن جاؤ گے اور مسلم کا مطلب ہے کسی کو امن دینے والا اور دوسرا ہے اپنے آپ کو کسی کے سپرد کرنے والا۔سپردگی کا جو مضمون ہے اس کا اللہ سے تعلق ہے اور سلامتی کا پیغام دینے کا جہاں تک تعلق ہے وہ بنی نوع انسان سے تعلق رکھتا ہے تو فرمایا کہ تم پھر مسلم کہلاؤ گے اگر اپنے ہمسائیوں سے بہت اعلیٰ درجے کا حسن سلوک کرو گے۔اب دیکھیں جو ہمسائیوں کی لڑائیوں کے جھگڑے ہیں وہ کتنے ہیں جو ابھی بھی جماعت میں چل رہے ہیں۔ربوہ ہی سے بعض قضائی معاملات ہیں جو بالآخر جب نچلی سطحوں پر طے نہ ہو سکے ، مرافعہ اولیٰ بھی حل نہ کر سکی ، قضاء بورڈ بھی اپنی بات منوانے میں ناکام ہو گیا تو اپیلیں مجھ تک پہنچیں اور معاملہ چھوٹی سی گلی کا ہے، ایک درخت کے پتوں کا ہے جو کسی کے گھر میں گر رہے ہیں، کسی درخت کی شاخوں کا معاملہ ہے، کسی نالی کا معاملہ ہے، اس ذلیل سی چیز کی خاطر آنحضرت ﷺ کی بیان فرمودہ تعریف مسلم سے انسان باہر نکل جاتا ہے۔دفع کرو ان چھوٹی چھوٹی چیزوں کو۔اگر گر کر اپنا حق چھوڑ کر بھی کچھ کرنا پڑتا ہے تو احسن مجاورة کا مضمون تقاضا کرتا ہے کہ حق بھی چھوڑو۔عام مجاورۃ میں تو دونوں طرف برابر کے حقوق ہیں لیکن اگر آپ بہت زیادہ خوب صورت یعنی ہمسائیگی کرنے والے ہیں تو اس میں حقوق چھوڑنے کے بھی مواقع آتے ہیں اس میں سے کسی کی تلخی کو خوشی اور ہنس کر قبول کرنے کے بھی مواقع پیدا ہوتے ہیں یہ سب آزمائشیں اس مضمون کا حصہ ہیں۔اگر ایسے لوگ پیدا ہوں جو آنحضور ﷺ کی اس تعریف کے مطابق مسلم بنیں تو ایک پاکستان کیا تمام دنیا کی حکومتیں بھی مل کر اسے غیر مسلم کہتی رہیں اس کو کوڑی کا بھی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ غیر مسلم کہنے والے عام تعریفوں کے بھی مستحق نہیں ہیں۔ہر جگہ فساد برپا ہیں ایک دوسرے کے حقوق تلف ہو رہے ہیں۔پس جماعت احمدیہ کو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی نصائح پر گہری نظر