خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 604
خطبات طاہر جلد 13 604 خطبه جمعه فرموده 12 اگست 1994 ء لفظ مومن کے دو رخ ہیں ایک اللہ کی طرف اور ایک بندے کی طرف۔مومن کا ایک مطلب ہوتا ہے امن دینے والا اور ایک مطلب ہے ایمان لانے والا جو شرعی اصطلاحی ترجمہ ہے۔جب اللہ کے تعلق میں ہم بات کرتے ہیں تو مراد ہے ایمان لانے والا اور جب بندوں کے تعلق میں بات کرتے ہیں تو امن دینے والا ہے۔تو ہر شخص اپنے لئے امن پسند کرتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اگر تسکین مل جائے کسی شخص کو تو یہی اس کی جنت ہے اور تمام تر بنی نوع انسان کی کوششیں اپنے نفس کو تسکین دینے کی کوششیں ہیں اور اپنے نفس کو خطرات سے بچانے کی کوشش ہیں۔تو فرمایا کہ تم مومن کہلاتے ہو۔مومن کا ایک رخ تو خدا کے بندوں کی طرف بھی ہے اور اس رخ کا ترجمہ یہ ہے کہ ہر بندہ تم سے امن میں رہے اور اگر وہ بندہ تم سے امن میں رہتا ہے تو پھر تم خدا سے امن میں رہو گے اور تمہارا ایمان کامل ہوگا کیونکہ اللہ پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی پناہ میں انسان آجائے اور اس کی امن کی چادر کے اندر داخل ہو جائے۔پس وہی مضمون رحم والا یہاں بھی صادق آ رہا ہے اس کی طرز بیان مختلف ہے مراد یہ ہے کہ تمام بنی نوع انسان تم سے اس طرح امن محسوس کریں جیسے تمہارا اپنا نفس تم سے امن محسوس کرتا ہے۔تمہارے نفس کو بالا رادہ کوئی شر نہیں پہنچ سکتا۔جہالت میں اور بے وقوفی کے استدلال میں تو انسان سب سے زیادہ اپنے نفس کو ہی نقصان پہنچاتا ہے مگر یہاں بالا رادہ نقصان کا مضمون ہے کوئی شخص جان بوجھ کر اپنے نفس کو تکلیف نہیں پہنچا تا اور ہر شخص کا نفس اس سے امن میں ہے۔پس فرمایا تمام بنی نوع انسان کے ساتھ ایسا سلوک کرو کہ وہ سارے تم سے امن میں آجائیں اگر ایسا کرو گے تو اللہ تعالیٰ سے تم امن میں آ جاؤ گے، اللہ کی پناہ میں آ جاؤ گے اور وہ تمہارے امن کی حفاظت فرمائے گا اور اس طرح تمہارا ایمان کامل ہوگا۔پس وہ جو دوسرا پہلو ہے مومن کا اس کے ترجمے کو سر دست میں چھوڑتا ہوں کیونکہ اب مجھے جلدی اس مضمون کو ختم کرنا ہے۔وہ پہلو بھی تفصیل سے اسی مضمون سے تعلق رکھتا ہے مگر حدیث کے چند الفاظ ایسے ہیں ان کا مضمون بیان کرنے کے بعد ایک اور اہم اعلان کرنا ہے میں نے اس خطبے کے دوران۔وَأَحْسِنُ مُجَاوَرَةَ مَنْ جَاوَرَكَ تَكُنْ مُسْلِمًا اور اپنے پڑوسی کے پڑوس کا حق ادا کرو، ہمسائیگی کا حق ادا کر تم مسلم ہو جاؤ گے۔یہاں بھی عجیب بات ہے کہ مسلمان کا ذکر نہیں فرمایا۔پڑوسی تو غیر مسلم بھی تھے۔آنحضور