خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 563
خطبات طاہر جلد 13 563 خطبہ جمعہ فرمودہ 29 / جولائی 1994ء اللہ تعالیٰ فرماتا ہے سزا تو دینی ہے۔ہم ہی دیں گے، مگر جب حق پوری طرح ثابت ہو جائے ان پر۔پھر خدا فرشتے بھیجتا ہے اور جب فرشتے بھیجتا ہے، تو ان لوگوں کو پھر کوئی مہلت نہیں دی جاتی۔پھر آنحضرت ﷺ کو بار بار مجنون کہا گیا۔القلم کی آیت 52 میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں جس میں کچھ تھوڑا تھوڑا مضمون کا اضافہ ہے میں وہی آیات لے رہا ہوں ورنہ آیات تو بہت کثرت سے ہیں وَإِن يَكَادُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَيُزْلِقُونَكَ بِأَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَيَقُولُونَ إِنَّهُ لَمَجْنُون ایک طرف تو ذکر کا یعنی خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والے کلام کا حوالہ دیتے ہیں تحقیر کے ساتھ اور طعنوں کے ساتھ کہ گویا وہ جس پر ذکر ا تارا جا رہا ہے۔تیرا یہ حال ہے کہ اللہ نے چنا بھی تو کس شخص کو چنا جو مجنون ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جس ذکر کو وہ طعن و تشنیع کا نشانہ بناتے ہیں جب وہ سنتے ہیں تو غیط وغضب میں مبتلا ہو جاتے ہیں معلوم ہوتا ہے اس ذکر میں کوئی ایسی طاقت ہے، ایسی شان ہے جس سے ان کے سینوں میں آگ بھڑک اٹھتی ہے ورنہ پاگلوں والی باتوں پر تو کوئی بھڑ کا نہیں کرتا۔پاگلوں والی باتوں پر تو ہم نے سوائے اس کے کہ کوئی پاگل ہو کسی کو غصہ میں آتے نہیں دیکھا وہ ہنستے ہیں مذاق اڑاتے ہیں پتھر بھی مار دیتے ہیں مگر پاگل کی بات ، پاگلوں والی سن کر کوئی بھڑک اٹھے، یہ نہیں ہوسکتا۔تو قرآن کریم کا انداز بیان دیکھیں، اسی بیان میں اس کا تو ڑ بھی رکھ دیا بتا بھی دیا کہ تم جھوٹے ہوا اگر یہ ایسا ذکر تھا جو تمہارے سامنے پیش کرتا ہے جو پاگلوں والی باتیں ہیں ،تمہیں غصہ کس بات کا آ جاتا ہے؟ فرماتا ہے۔وَإِن يَكَادُ الَّذِيْنَ كَفَرُوا لَيُزْلِقُونَكَ بِأَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَيَقُولُونَ إِنَّهُ لَمَجْنُونٌ پاگل ایسے ہیں کہ جب ذکر کو سنتے ہیں تو غیظ و غضب سے ان کی آنکھیں لال ہو جاتی ہیں یعنی آنکھیں لال ہونے کا تو اردو محاورہ ہے، قرآن کریم فرماتا ہے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے ذکر سنتے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ ابھی تجھے غضب آلود نظروں سے پھسلا دیں گے۔اب پاکستان سے آئے ہوئے لوگ تو خوب اچھی طرح جانتے ہیں۔مولوی جن آنکھوں سے ان کو دیکھتا ہے وہ لگتا ہے کہ غضب ناک نظروں ہی سے ان کے پاؤں تلے سے زمین نکال دے گا اور وہی فطرت انسان کی قدیم سے اسی طرح چلی آ رہی ہے۔آنحضرت ﷺ کے زمانے میں بھی یہی حال تھا ان لوگوں کا۔اس سے پہلے زمانوں میں بھی یہی حال