خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 562
خطبات طاہر جلد 13 562 خطبہ جمعہ فرمودہ 29 جولائی 1994ء جَاءِ وَا ظُلْمًا وَ زُورًا بہت بڑا ظلم کمایا ہے ان لوگوں نے مل کر اور بہت بڑا جھوٹ گھڑا ہے۔کیا یہ ہتک رسول ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو تمہاری منطق کیا ہے تمہاری عقل کو کیا ہو گیا ہے۔ہتک اور کس کو کہتے ہیں اور اگر ہے تو اس کی سزا بتا ؤ قرآن کریم میں کہاں لکھی ہے؟ وَقَالُوا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَةً وأَصِيلًا ( الفرقان : 6) الله اور اسی پر بس نہیں کی ، انہوں نے کہا یہ تو پرانے لوگوں کی باتیں ہیں۔اكْتَتَبَهَا محمد رسول اللہ ﷺ نے، رسول اللہ تو میں کہ رہا ہوں یعنی ان کے نزدیک محمد ﷺ نے اكْتَتَبَهَا اسے لکھوا رکھا ہے، کسی کی مدد سے لکھوالیا ہے فَهِيَ تُعَالَى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا یہ جانتے تھے اور اقرار کرتے تھے کہ پڑھے ہوئے نہیں ہیں اس لئے لکھوایا بھی کسی سے اور کوئی اور پڑھنے والا صبح شام ان پر یہ باتیں پڑھ کے سناتا ہے تا کہ یہ بھول نہ جائیں۔پھر سورۃ المومنون کی آیات ہیں ان میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان ظالموں نے محمد رسول اللہ یہ کو کیا کیا کہہ کر اذیتیں پہنچائیں کہا، إِنْ هُوَ إِلَّا رَجُلٌ افْتَرَى عَلَى اللهِ كَذِبًا انہوں نے کہا کہ ایسا شخص ہے جس نے خدا پر جھوٹ کا طومار باندھ رکھا ہے وَمَا نَحْنُ لَهُ بِمُؤْمِنِيْنَ ہم ایسے شخص پر ایمان ہرگز نہیں لا سکتے۔محمد رسول اللہ نے کیا جواب دیا اپنے غلاموں کو یہ تلقین فرمائی کہ اٹھو تلواریں سونتو اور ان کے سرتن سے جدا کر دو! ہر گز نہیں۔قَالَ رَبِّ انْصُرْنِي بِمَا كَذَّبُونِ اے میرے رب تو میری مددفرما اس وجہ سے کہ لوگ مجھے جھٹلا چکے ہیں میرا کوئی اختیار نہیں۔تو ہی ہے جو میری مددفرما سکتا ہے۔(المومنون : 40-39) پھر آنحضرت ﷺ کو دیوانہ کہا گیا۔سورۃ الحجر میں فرماتا ہے: وَقَالُوا يَا يُّهَا الَّذِى نُزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ إِنَّكَ لَمَجْنُونَ (الحجر: 7) انہوں نے کہا اے وہ شخص! اور خطاب دیکھیں کیسا تحقیر کا ہے۔اے وہ شخص جس پر ذ کرا تا را جار ہا ہے تو یقیناً یا گل ہے اس کے سوا ہم اور کچھ نہیں کہہ سکتے لَوْ مَا تَأْتِيْنَا بِالْمَلَبِكَةِ إِنْ كُنْتَ مِنَ الصُّدِقِينَ (الحجر: (8) اگر تو سچا ہوتا تو ہمارے پاس فرشتے لے کے کیوں نہ آتا مَا نُنَزِّلُ الْمَلبِكَةَ إِلَّا بِالْحَقِّ وَمَا كَانُوا إِذَا مُنْظَرِينَ (الحجر: 9)