خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 542
خطبات طاہر جلد 13 542 خطبہ جمعہ فرمودہ 22 / جولائی 1994ء اور معصوم پکڑے گئے اور ابھی ایسے ہی تین معصوم بچوں کی ماں کا مجھے خط ملا اور ہماری تحقیق کے مطابق وہ بالکل سچی ہے۔وہ کہتی ہے اس طرح قتل ہوا تھا ایک گاؤں میں پچیس سال کی بات ہے اور شریکے نے ہماری جائیدادوں پر قبضے کرنے تھے اس لئے جو قاتل تھے انہوں نے پولیس کو پیسے دیئے وہ آزاد دندناتے پھر رہے ہیں اور میرے تینوں بچے ، تین ہی بیٹے تھے وہ اس وقت جیل میں پچیس سال عمر قید کاٹ رہے تھے۔اس بے چاری کے کبھی کبھی دردناک خط آ رہے تھے کل پھر اسی مضمون کا خط ملا ہے کہ پچیس ہزار ایک بیٹے کو باہر نکلوانے کے لگ رہے ہیں جبکہ پچیس سال عمر گزرچکی ہے فیصلہ ہو گیا ہے کہ باہر نکل آؤ۔مجھے مدد کریں تو ہو گا۔جماعت تو مدد کرتی ہے اپنوں کی بھی اور غیروں کی بھی اور جہاں تک توفیق ہے ہم کوشش کرتے ہیں کہ ظلم کے خلاف جہاد کریں لیکن جس قوم کا یہ حال ہو گیا ہوا یسی جرائم پیشہ قوم ان کی اندرونی نفسیاتی بیماری یہ ہے۔یہ سمجھتے ہیں کہ اگر تو ہین رسالت کے نام پر جس طرح مولوی کہتا ہے آنکھیں بند کر کے ایک جھوٹی غیرت دکھا دو گے تو سارے گناہ بخشے جائیں گے۔اتنی ٹیڑھی سوچیں ہیں کہ ٹیڑھی سوچیں اور ٹیڑھے تصورات ساری قوم کی بدکرداریاں بن گئی ہیں اور یہ بد بخت ملاں اس کا ذمہ دار ہے جس نے ساری قوم کو پاگل بنارکھا ہے اور قوم ذمہ دار ہے جو پوچھتی نہیں ان سے کہ بتاؤ تو سہی قرآن نے کہاں لکھا ہے تو ہین کا مضمون۔کیا سزائیں دی گئی ہیں۔ہم بھی تو دیکھیں ہم بھی تو پڑھیں لیکن علم کا نہ شوق ہے نہ کوئی امکان ہے دور کا بھی، کہ قرآن سے ذاتی تعلق پیدا کریں اس کے مضامین کو پڑھیں اور غور کریں۔جو مولوی کہتا ہے اس کی وہ بات منظور ہے جو ان کو حق سے دستبردار ہونے پر مجبور نہ کرے وہ ساری باتیں منظور ہیں لیکن اگر سیاست کے اوپر مولوی حملہ کرنے لگے تو پھر دیکھیں کیسا ذلیل اور رسوا ہوتا ہے پچھلے انتخابات میں بھی کیا گیا آئندہ بھی ذلیل ہوتا رہے گا۔تو یہ صرف تمہیدی بیان ہے جو میں آج کے خطبے میں ختم کر سکا ہوں انشاء اللہ اگلا حصہ میں جمعے میں، جو اس جلسہ سالانہ کے دوران آئے گا شروع کروں گا اور چونکہ ختم نہیں ہوسکتا اس لئے میرا خیال ہے کہ افتتاحی تقریر کا مضمون بھی یہی رکھ لوں اور اسی مضمون کو آگے چلا دوں باقی جو دو دن کی تقریریں ہیں وہ تو الگ خاص موضوع ہے اس میں تو اس کو داخل نہیں کیا جاسکتا۔جہاں تک جلسے کی ہدایت کا تعلق ہے، ایک ہدایت میں اب خصوصیت سے دینا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ بہت سے باہر سے آنے والے یہاں آئیں یا دوسرے جلسوں میں جائیں بعض دفعہ قرض