خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 541 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 541

خطبات طاہر جلد 13 541 خطبہ جمعہ فرمودہ 22 / جولائی 1994ء انہوں نے کہا اچھا بتاؤ کیا بات ہے اس نے کہا بات تو ٹھیک ہے میں نے نکاح پر نکاح پڑھایا ہے مگر جس کا پڑھایا ہے جب اس نے چڑی جتنا روپیہ میرے ہاتھ پر رکھ دیا تو میں کیا کر سکتا تھا۔”چڑی جتنا کہتا ہے روپیہ اتنا بڑا نظر آ رہا تھا مجھے۔جو حرص کی آنکھ ہو وہ پھر بڑھا کے بھی دیکھ رہی ہوتی ہے۔بہت بڑا اس کو روپیہ دکھائی دیا کہ جی میں کیا کر سکتا تھا تو وہاں پیسے کی بڑی شرم ہے۔اب بیچاری پولیس کیا کرے، کوئی پیش رفت نہیں جاتی جہاں پیسہ چل جائے وہاں ہر دوسرا جرم جائز ہے اس لئے سب مقد مے دب جاتے ہیں، سب گناہ نظر سے غائب ہو جاتے ہیں۔وہاں نظر آتے ہیں جہاں پیسہ نہ دیا گیا ہو اور مرضی ہے چاہو تو اپنے خلاف شرعی عدالت میں کیس بھجوا دو، چاہو تو عام عدالت میں۔قوم کو دو اختیار ہیں ایک طرف شریعت کی اتنی غیرت کہ مولوی کہتا ہے کہ شریعت نہ آئی تو ساری قوم سر کٹا دے گی دوسری طرف ہر مجرم اور ہر ایک ہی مجرم بنا ہوا ہے شرعی عدالت سے ایسا بھاگتا ہے جیسا کو اغلیلے سے بھاگتا ہے اور جاتے کیوں نہیں وہاں مقدمے، وہ عدالت مردار کی طرح کیوں بیٹھی ہوئی ہے دنیا کی ساری عدالتیں مقدموں سے بھری ہوئی ہیں اتنی بھری ہوئی ہیں کہ چھ چھ مہینے ، سال سال، کئی کئی سال تک مجرموں کے فیصلے ہی نہیں ہور ہے۔وجہ یہ ہے کہ شریعت سے ڈرتے ہیں لوگ اور پیسہ دے دیتے ہیں پولیس کو۔پولیس کے اختیار میں ہے چاہے تو شریعت کی عدالت میں بھیجے چاہے تو ملکی قانون میں بھیج دے یہ تو شریعت کا احترام ہے۔اور تقویٰ اور ہمدردی بنی نوع انسان کا یہ حال ہو گیا ہے کہ ایک سے زائد مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ مجھے بعض قیدیوں نے حالانکہ مجھے جانتے بھی نہیں، ان احمدی قیدیوں سے تعارف حاصل کر کے جو اس جرم میں پکڑے گئے کہ وہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ کہا کرتے تھے انہوں نے بتایا کہ کچھ نیک آدمی یہاں ہمارے لوگوں میں بس کے گئے ہیں ان سے آپ کا پتا چلا ہے سنا ہے آپ بھی خدا ترس ہیں۔عمر قید کی سزا ختم ہو چکی ہے پچیس سال ہو گئے ہیں باہر نکلنے کے لئے پیسے نہیں۔اتنی بے حیائی، ایسی سنگدلی، ہر شخص مردار خور بنا ہوا ہے۔کہیں قتل ہو سہی پھر دیکھیں تھانے دار کس طرح لہک لہک کر جس طرح گد ھیں اترتی ہیں اس طرح اپنی پولیس فورس لے کر قتلوں پہ اترتے ہیں اور پھر رائٹ اینڈ لیفٹ ، دائیں اور بائیں جس جس کا نام آسکے اس کا لکھتے چلے جاتے ہیں کہ تفتیش ہے اور پھر پیسے چلتے ہیں اور ایسے واقعات ایک نہیں بارہا ہوئے ہیں کہ زیادہ پیسے دے کر مجرم تو آزاد ہو گئے